پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان بھر میں بارشوں اور آندھی کا نیا سلسلہ متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

17 سے 25 مارچ تک مختلف علاقوں میں گرج چمک، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ دنوں کے دوران موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق 17 سے 25 مارچ کے درمیان ملک بھر میں بارشوں، گرج چمک، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا ایک نیا سلسلہ متوقع ہے جس کے باعث متعلقہ اداروں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے جو منگل سے بتدریج اثر انداز ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں موسمی صورتحال غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔
پیر کو جاری کیے گئے الرٹ میں حکام نے بتایا کہ اس موسمی نظام کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راوالپنڈی سمیت شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ سیاحتی مقام مری اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں گلیات میں آندھی اور ژالہ باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے جس کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ محکمہ کے مطابق بالائی اور وسطی پنجاب کے اہم شہروں لاہور، سیالکوٹ اور گجرانوالہ میں بھی بارش کے ساتھ تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ہے جس سے روزمرہ زندگی اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔
جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی اس موسمی تبدیلی کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ڈیرہ غازی خان،ملتان اور بہاولپور سمیت دیگر علاقوں میں بھی بادل برسنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان علاقوں میں بارش کی شدت کم ہو سکتی ہے تاہم آندھی اور تیز ہوائیں شہری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں اور بعض مقامات پر گرد آلود آندھی بھی چلنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ حساس علاقوں میں نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو تیار رکھا جائے۔
موسمی تبدیلی کے اثرات صوبہ بلوچستان میں بھی نمایاں ہو سکتے ہیں جہاں 23 مارچ تک مختلف علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے یا مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس لیے مقامی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے بالائی علاقوں میں بادل برسنے کے امکانات موجود ہیں جبکہ کراچی اورحیدرآباد میں بھی کہیں کہیں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سندھ میں اس موسمی نظام کی شدت کم رہنے کی توقع ہے تاہم تیز ہوائیں اور بادلوں کی گرج شہری زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے علاوہ برفباری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ کے مطابق برفباری کے باعث ان علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے جبکہ بعض پہاڑی راستے بند ہونے کا بھی خدشہ موجود ہے۔ حکام نے سیاحوں اور مقامی افراد کو محتاط رہنے اور موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ممکنہ موسمی خطرات کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریسکیو ٹیموں، طبی سہولیات اور ہنگامی امدادی سامان کو تیار رکھیں اور حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی جاری رکھیں۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادارے کے مطابق خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے اور خصوصاً پہاڑی علاقوں میں سفر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتی جائے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تیز آندھی کے دوران بجلی کے کھمبوں، کمزور عمارتوں اور درختوں سے دور رہیں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ موسمِ بہار کے دوران معمول کی ایک موسمی سرگرمی ہے، تاہم اس مرتبہ اس کی شدت نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے جس کے باعث بعض علاقوں میں ژالہ باری اور تیز آندھی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں جہاں ایک طرف درجہ حرارت میں کمی کا باعث بنیں گی وہیں زرعی علاقوں کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ خشک سالی کے شکار علاقوں میں نمی کی سطح بہتر ہو جائے گی۔ تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button