
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا پہلا مکمل ویڈیو لنک اجلاس، ترقیاتی اور اصلاحاتی اقدامات کی منظوری
گریڈ 17 اور اوپر کے تمام سرکاری افسران بھی دو دن کی بنیادی تنخواہ کفایت فنڈ میں دیں گے
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سربراہی میں پنجاب کابینہ کا پہلا مکمل ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، معاونین خصوصی، پارلیمانی سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری افسران نے کفایت شعاری مہم کے تحت آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور سیکورٹی کے شعبے میں اہم فیصلے کیے گئے۔
کفایت شعاری اور فنڈز:
صوبائی کابینہ کے ارکان، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکرٹریز نے دو ماہ کی مکمل تنخواہ وزیراعظم کفایت فنڈ میں دینے کی منظوری دی، جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان نے دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسز کا 25 فیصد رضاکارانہ طور پر فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔ گریڈ 17 اور اوپر کے تمام سرکاری افسران بھی دو دن کی بنیادی تنخواہ کفایت فنڈ میں دیں گے۔
رمضان نگہبان پروگرام کی کامیابی:
اجلاس میں ماہ رمضان میں نافذ ہونے والے رمضان نگہبان پیکج کی کامیابی پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، Bank of Punjab اور متعلقہ حکام کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ ایران و اسرائیل میں جاری جنگ کے احتجاجی مظاہروں کے بروقت اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مظاہرین کو افطاری مہیا کرنے پر وزیراعلیٰ کی کاوشوں کی تعریف کی گئی۔
تعلیمی و تحقیقی منصوبے:
قصور میں Mian Nawaz Sharif Engineering and Technology University کے قیام کے لیے اراضی فراہم کی گئی۔
سرگودھا میں Quaid-e-Azam Institute of Sciences کا چارٹر منظور کیا گیا۔
مری میں سپیشل ایجوکیشن مڈل سکول کی جدید عمارت کی منظوری دی گئی اور لاہور میں آٹزم سکول میں 164 آسامیوں پر بھرتی کی اجازت دی گئی۔
صوفی آباد، لاہور میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین کے قیام کے لیے اراضی کی فراہمی کی منظوری دی گئی۔
انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات:
راولپنڈی شہر کے لیے واٹر ڈسٹری بیوشن اور چر رڈ ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔
کندیاں میں سپورٹس کمپلیکس اور نشتر پارک و میاں میر سپورٹس کمپلیکس کے فری اسکواش کورسز کے لیے پاکستان اسکواش اکیڈمی کو اجازت دی گئی۔
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں بھرتیوں کی منظوری دی گئی اور الیکٹرک بسوں کے لیے بس سٹاپ شیلٹرز بنانے کے لیے فنڈز منظور کیے گئے۔
ٹیکنالوجی اور سیکورٹی اقدامات:
پنجاب کے پہلے PIFTAC (Provincial Intelligence and Threat Assessment Center) کے لیے 137 نئی پوسٹوں اور اے آئی ہب کے قیام کی منظوری دی گئی۔
سائبر سکیورٹی پراجیکٹ سکیم کی منظوری دی گئی۔
پولیس، باڈی کیم اور پینک بٹن انسٹالیشن کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی۔
اعلیٰ عدلیہ کے لیے 10 سرکاری گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی گئی۔
صحت اور سماجی اقدامات:
پنجاب پروٹیکشن آف آنرشپ ایموایبل پراپرٹی 2025، پنجاب ہیلتھ فیسلٹیز مینجمنٹ کمپنی رولز، اور متعدد ہسپتالوں کی ترقیاتی سکیمیں منظور کی گئیں۔
سپیشل افراد کے لیے وہیل چیئر، ہیرنگ ایڈ اور دیگر معاون آلات کی فراہمی کے فیز 2 کی منظوری دی گئی۔
بے نظیر بھٹو ہسپتال، سول ڈیفنس اور دیگر مراکز میں علاج کے اخراجات کی واپسی کی منظوری دی گئی۔
قانون سازی اور انتظامی اصلاحات:
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ، پنجاب فلم ڈویلپمنٹ ایکٹ، پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ، پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس اور دیگر قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔
پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی ایکٹ، پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ایکٹ، پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز، اور انسداد منشیات و انسداد دہشت گردی قوانین کی منظوری دی گئی۔
سیکیورٹی اور ریلٹڈ اقدامات:
کیڈٹ کالج عیسی خیل میں سکیورٹی آلات، اسلحہ اور اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی، پنجاب صاف پانی اتھارٹی اور دیگر اداروں میں CEO کی تعیناتی و ٹرانسفر کی منظوری دی گئی۔
مالی اور ترقیاتی پالیسی:
پنجاب جنرل پرائیویٹ انویسٹمنٹ، پنجاب پنشن فنڈ، ای ڈی پی ڈویلپمنٹ سکیمز، تونسہ ہائیڈروپراجیکٹ، واٹر سپلائی سکیمیں، اور دیگر ترقیاتی پراجیکٹس کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی۔
صوبائی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کی منظور شدہ گرانٹس ریلیز کرنے کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ Maryam Nawaz Sharif نے اجلاس کے دوران کہا کہ وہ صرف عوام کے مفاد کے لیے کام کرتی ہیں اور عوامی مفادات کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔
یہ اجلاس پنجاب کی ترقی، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سیکورٹی اور قانونی اصلاحات کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کن اجلاس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



