بین الاقوامیتازہ ترین

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد: افغانستان میں دہشت گرد گروہوں پر تشویش، طالبان سے فوری اقدامات کا مطالبہ

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

مدثر احمد -امریکا،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

نیویارک — United Nations Security Council نے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کے مینڈیٹ کی تجدید کرتے ہوئے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور طالبان حکومت سے دہشت گردی کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی نئی قرارداد کے تحت United Nations Assistance Mission in Afghanistan (یو این اے ایم اے) کے مینڈیٹ کو ایک سال کے لیے مزید توسیع دے دی گئی ہے تاکہ افغانستان میں سیاسی، انسانی اور سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی جاری رکھی جا سکے۔

دہشت گردی پر عالمی تشویش

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ایسے گروہ کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے جو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہو۔

کونسل نے افغان حکام، خصوصاً  افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف "اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں، جہاں بھی اور جس نے بھی ارتکاب کیا ہو، فعال، فوری، قابل عمل اور ٹھوس اقدامات” کریں۔

ہتھیاروں کے کنٹرول پر زور

سلامتی کونسل نے افغانستان میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے پھیلاؤ پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلحے اور گولہ بارود کے محفوظ انتظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں نہ جا سکے۔

قرارداد کے مطابق اسلحے کے ذخائر کے بہتر انتظام اور نگرانی کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ فراہم ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔

یو این اے ایم اے کے کردار کی توسیع

United Nations Assistance Mission in Afghanistan افغانستان میں اقوام متحدہ کا اہم مشن ہے جو 2002 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد افغانستان میں امن، استحکام، انسانی حقوق کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی میں تعاون کرنا ہے۔

سلامتی کونسل کی نئی قرارداد کے تحت یو این اے ایم اے کو افغانستان میں انسانی صورتحال کی نگرانی، خواتین کے حقوق کے تحفظ، اور بین الاقوامی برادری اور افغان حکام کے درمیان رابطہ کاری کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے عثمان جدوون نے قرارداد کی منظوری کے بعد سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے قومی بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

سفیر جدون نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سیاسی مکالمہ، اقتصادی بحالی اور انسانی امداد کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال

2021 میں افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی بحران، انسانی حقوق کے مسائل اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔

بین الاقوامی برادری خاص طور پر اس بات پر تشویش رکھتی ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو افغانستان میں جاری صورتحال کے تناظر میں ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں استحکام کو فروغ دینا اور دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری

ماہرین کے مطابق یو این اے ایم اے کے مینڈیٹ میں توسیع افغانستان میں اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے کا اشارہ ہے۔ اس کے ذریعے عالمی برادری افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھ سکے گی اور ضرورت پڑنے پر انسانی امداد اور سفارتی اقدامات کو تیز کر سکے گی۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے سیاسی شمولیت، انسانی حقوق کا احترام اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button