
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان میں اپنے آپریشن غضب للحق کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی ہیں، جس کے دوران 707 دہشت گرد ہلاک اور 938 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران افغانستان میں دہشت گردوں کے 44 ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ افغان طالبان کی چوکیاں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی پاکستانی فوج کے فضائی اور زمینی حملوں میں تباہ ہو گئیں۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے تفصیلات کا اعلان
وفاقی وزیر اطلاعات، عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کی حالیہ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات ایکس (Twitter) پر جاری کیں، جس کے مطابق آپریشن کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں، جن میں 707 دہشت گردوں کی ہلاکتیں اور 938 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات شامل ہیں۔ وزیر اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن کے دوران 44 دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے، جن میں افغان طالبان کے اہم مراکز بھی شامل ہیں۔
دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ اور اہم کامیابیاں
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ افغان طالبان کی 255 چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں اور 44 چوکیاں پاکستانی فوج کے قبضے میں آ گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، 237 افغان طالبان کے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی فضائیہ نے افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 81 ٹھکانوں اور معاون مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچا۔
پاکستانی مسلح افواج کی فضائی کارروائیاں
پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب افغانستان کے اہم علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں کابل اور ننگرہار شامل ہیں۔ ان فضائی حملوں میں افغان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ڈرون اسٹوریج، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ ڈپو شامل تھے۔ وزیر اطلاعات نے وضاحت کی کہ یہ اسلحہ جو افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپ پاکستانی شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے، اس کو تباہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں اور ان کی سپلائی لائنز کو بڑی حد تک روک دیا گیا ہے۔
پاک فوج کی زمینی کارروائیاں: باجوڑ، کرم، خیبر اور وزیرستان میں کامیاب کارروائیاں
پاکستان کی زمینی افواج نے بھی آپریشن غضب للحق کے تحت مختلف سیکٹرز میں افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ باجوڑ، کرم، خیبر، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں میں کسی بھی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انتہائی احتیاط سے کی ہیں تاکہ مقامی شہریوں کو بچایا جا سکے اور صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے۔
پاکستان کا عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف عزم
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کا یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کا عکاس ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ضروری کارروائیاں کی ہیں۔ آپریشن غضب للحق نے افغان سرحد کے نزدیک دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے اور پاکستانی عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اپنے دفاع میں یہ کارروائیاں کی ہیں اور اس نے عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر اور بیرون ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کامیابیوں کو تسلیم کراتا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان کی فوج کی احتیاطی حکمت عملی اور شہریوں کی حفاظت
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانی فوج نے آپریشن کے دوران اس بات کو یقینی بنایا کہ کارروائیاں انتہائی پیشہ وارانہ طریقے سے کی جائیں تاکہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے لیکن ان حملوں میں مقامی شہریوں یا کسی بھی اہم سہولت کو نقصان نہیں پہنچا۔ پاکستانی فوج کی اس احتیاطی حکمت عملی نے آپریشن کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی تاثیر کو مزید بڑھایا۔
آپریشن کا مستقبل اور پاکستانی عزم
پاکستان کی فوج نے یہ واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید شدت کے ساتھ کی جائیں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے گروپوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی ہے اور پاکستان کا عزم ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قدم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑنے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
نتیجہ:
آپریشن غضب للحق کی کامیاب کارروائیاں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دہشت گردوں کے خلاف عزم کا مظہر ہیں۔ افغانستان میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے 44 ٹھکانے تباہ اور 707 دہشت گردوں کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ پاکستان کی فضائیہ اور زمینی افواج نے بھرپور کارروائیاں کر کے افغان طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرے گا اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔



