یورپاہم خبریں

یورپی یونین اور آسٹریلیا آزاد تجارتی معاہدے پر متفق

یہ معاہدہ ایسا تازہ ترین تجارتی معاہدہ ہے، جو یورپی یونین نے اپنے تجارت کے شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ متنوع بنانے کے لیے کیا ہے

روئٹرز، اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ

یورپی یونین اور آسٹریلیا کے مابین ایک آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس میں انتہائی اہم معدنیات اور گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت عالمی تجارتی شعبے میں بے یقینی کے باوجود برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔

اس دوطرفہ آزاد تجاری معاہدے کا اعلان یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈئر لاین اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا۔

یہ معاہدہ ایسا تازہ ترین تجارتی معاہدہ ہے، جو یورپی یونین نے اپنے تجارت کے شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ متنوع بنانے کے لیے کیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ یورپ کو تجارتی شعبے میں امریکہ اور چین کی طرف سے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

آزاد تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد البانیزی اور فان ڈئر لاین ہاتھ ملاتے ہوئے
آزاد تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد البانیزی اور فان ڈئر لاین ہاتھ ملاتے ہوئےتصویر: Lukas Coch/AAP/REUTERS

سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں بھی پارٹنرشپ

کینبرا میں ہونے والی تقریب میں یورپی  کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین اور آسٹریلوی وزیر اعظم البانیزی نے اس بارے میں بھی اتفاق کیا کہ برسلز اور کینبرا آپس میں سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کریں گے۔

یورپی یونین کے کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین نے وزیر اعظم البانیزی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا، ”یہ درست ہے کہ یورپی یونین اور آسٹریلیا ایک دوسرے سے جغرافیائی طور پر بہت دور ہیں، لیکن اس حوالے سے تو ہم ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں کہ ہم مل کر دنیا کو کس طرح دیکھ رہے ہیں۔‘‘

اس یورپی خاتون رہنما نے کہا، ”اب بڑی فعال اور متحرک نوعیت کی شراکت داری کے ساتھ ہم سلامتی، دفاع اور تجارتی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے مزید قریب تر آتے جا رہے ہیں۔‘‘

فان ڈئر لاین آسٹریلین گورنر جنرل اور آسٹریلوی وزیر تجارت و سیاحت کے ساتھ کل پیر کے روز سڈنی میں
فان ڈئر لاین آسٹریلین گورنر جنرل اور آسٹریلوی وزیر تجارت و سیاحت کے ساتھ کل پیر کے روز سڈنی میںتصویر: Hollie Adams/REUTERS

اس موقع پر آسٹریلوی وزیر اعظم البانیزی نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق اتفاق رائے کو اپنے ملک کے لیے ”ایک انتہائی بامعنی لمحہ‘‘ قرار دیا۔

اگر دو طرفہ تجارت کو دیکھا جائے، تو یورپی یونین آسٹریلیا کی تیسری سب سے بڑی ٹریڈ پارٹنر ہے جبکہ آسٹریلیا میں اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات کی جائے، تو یورپی یونین وہاں سرمایہ کاری کرنے والے دوسرا سب سے  بڑا ملک یا بلاک ہے۔

آزاد تجارتی معاہدے میں ہے کیا؟

یورپی یونین اور آسٹریلیا کے مابین اس آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آسٹریلیا بھیجی جانے والی یورپی برآمدی مصنوعات پر 99 فیصد سے زائد تک ٹیرفس ختم کر دیے جائیں گے۔

یورپی یونین اور آسٹریلیا کے پرچم، ایک علامتی تصویر
یورپی یونین اور آسٹریلیا کے پرچم، ایک علامتی تصویرتصویر: LUKAS COCH/AAP/imago images

اس طرح یورپی برآمدی اداروں کو تقریباﹰ ایک بلین یورو (1.16 بلین امریکی ڈالر) کے برابر تک صرف محصولات کی مد میں ہی بچت ہو سکے گی۔

اس کے علاوہ وائن، پھلوں، سبزیوں اور چاکلیٹس پر آسٹریلین ٹیرفس پہلے ہی دن سے صفر فیصد ہو جائیں گے جبکہ مختلف اقسام کے پنیر پر یہ ٹیرفس تین سال کے عرصے کے دوران بالکل ختم کر دیے جائیں گے۔

آئندہ جو یورپی کاریں آسٹریلیا برآمد کی جائیں گی، ان میں سے زیادہ تر پر عائد کیا جانے والا آسٹریلین لگژری کار ٹیکس کم کر دیا جائے گا جبکہ تقریباﹰ تین چوتھائی الیکٹرک گاڑیوں پر یہی لگژری کار ٹیکس سرے سے ختم کر دیا جائے گا۔

ایڈی لیڈ میں ایک سپر مارکیٹ کی تصویر
معاہدے کے تحت تجارتی مصنوعات پر محصولات ننانوے فیصد تک ختم کر دیے جائیں گےتصویر: David Mariuz/AAP/IMAGO

آسٹریلیا کو اس معاہدے سے ہونے والے فوائد میں بہت نمایاں بیف کی وہ برآمدات ہیں، جو یورپی یونین پہنچتی ہیں اور جن کی سالانہ مالیت کئی بلین یورو بنتی ہے۔

سیاسی اور مذاکراتی سطح پر یہ یورپی آسٹریلوی آزاد تجارتی معاہدہ اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ اب طے تو پا گیا ہے، تاہم ابھی اس کی دستاویز پر باقاعدہ دستخط نہیں ہوئے۔

اس معاہدے کی دستاویز پر باقاعدہ دستخط اس کی آسٹریلوی پارلیمان اور یورپی کونسل دونوں کی طرف سے لازمی منظوری کے بعد کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button