
امریکی صدر ٹرمپ ایران میں کس سے مذاکرات کر رہے ہیں؟
ایران نے فوری طور پر امریکی صدر کے ان دعووں کی تردید کر دی تھی۔
ایجنسیاں
پھر کل پیر 23 مارچ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہا کہ وہ توانائی کی ایرانی تنصیبات پر حملے فی الحال پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں اور تہران کو دی گئی مہلت بڑھا دی گئی ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ ”بہت اچھے اور تعمیری مذاکرات‘‘ جاری ہیں تاکہ موجودہ جنگ ختم کی جا سکے۔
ایران نے فوری طور پر امریکی صدر کے ان دعووں کی تردید کر دی تھی۔
پھر کل پیر ہی کی شام امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ واشنگٹن ایرانی مذاکراتی نمائندوں کے ساتھ فون پر اپنی بات چیت جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے ایران میں ایک ”اعلیٰ شخصیت‘‘ کے ساتھ بات چیت کی ہے، جس میں اطراف کے مابین ”بڑے نکات پر اتفاق رائے‘‘ بھی ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست فلوریڈا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گزشتہ شام یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ موجودہ ایرانی حکومت میں ” ایک بہت باعزت اور اہم شخصیت‘‘ کے ساتھ رابطوں میں ہے، تاہم یہ رہنما ”نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں‘‘ ہیں۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے اپنی بات چیت میں مذاکرات میں شامل ایرانی شخصیت کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا، ”میں نہیں چاہتا کہ انہیں ہلاک کر دیا جائے۔‘‘

بہت سے ایرانی رہنماؤں سمیت کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ایران جنگ چونکہ اب امریکہ اور اسرائیل کی توقعات سے زیادہ طویل ہو چکی ہے، اس لیے ایسی کوششوں اور بیانات سے امریکی صدر مبینہ طور پر اپنے لیے مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
رابطہ کاروں کا کردار
چند باخبر ذرائع اور کئی تجزیہ کاروں نے بتایا کہ ایران جنگ ختم کرانے کے لیے پس پردہ کی جانے والی سفارتی کوششوں میں مصر، ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ تہران ایسے کسی دعوے کی تردید بھی کرتا ہے یا نہیں، ان ثالثی کوششوں اور ایسی رابطہ کاری کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح خطے میں موجودہ عسکری کشیدگی میں کمی کو یقینی بنایا جائے۔
برطانیہ کی ایک نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے ایک ترک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی ”ایسے مذاکرات میں ایک ایسا متحدہ سیاسی محاذ بنانے کی کوشش میں ہے، جس کی مدد سے اسرائیلی اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس تنازعے کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے یورپی، خلیجی اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکے۔‘‘
ترک وزارت خارجہ نے تاہم اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ انقرہ نے گزشتہ ویک اینڈ پر امریکہ اور ایران کے مابین پیغامات کی کسی ترسیل میں کوئی کردار اد اکیا۔
دوسری طرف قاہرہ میں مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ”تمام فریقوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ابلاغ کی مستقل کوششوں میں مصروف ہے۔‘‘

مذاکرات کی ممکنہ جگہ پاکستان
پاکستان کے ایک اعلیٰ اہلکار اور تازہ ترین صورت حال سے باخبر ایک ذریعے نے اپنی شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتایا، ”جب سے ایران جنگ شروع ہوئی ہے، پاکستان اطراف کے ساتھ مسلسل فعال رابطوں میں مصروف ہے۔‘‘
اس اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے ٹیلی فون پر بتایا، ”پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سینئر امریکی اہلکاروں اورا عکلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ رابطوں میں رہے ہیں تاکہ اس جنگ کو ختم کرانے میں مدد دی جا سکے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی مذاکرات ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔‘‘
اسی طرح ایک دوسرے سفارتی ذریعے نے بتایا کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سرکردہ ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل اور براہ راست رابطوں میں ہیں اور وہ خلیجی عرب ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بھی اپنا مشاورتی اشتراک عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

ماہرین کیا کہتے ہیں؟
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مقیم جنوبی ایشیائی امورکے ماہر مائیکل کوگلمین نے منگل کے روز ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کے بل پر، جنگ ختم کرانے کی اپنی کوششوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن سے مذاکراتی فائدہ اٹھانے کی کاوش میں ہے۔ یہ وہ سیاسی حیثیت ہے، جس کا اپنے لیے خطے کے بہت ہی کم ممالک دعویٰ کر سکتے ہیں، صرف اس لیے کہ جہاں اس وقت امریکہ اور ایران دونوں پہنچ چکے ہیں، انہیں وہاں سے واپس لایا جائے۔‘‘
کوگلمین نے بتایا، ”یہ بات غیر واضح ہے کہ پاکستان اپنی ان کوششوں کے ساتھ کتنا آگے تک جا سکتا ہے، خاص طور پر اس مقصد کے تحت مذاکرات کی میزبانی اپنی سرزمین پر کرنے کی حد تک۔ یہ امر اس وجہ سے بھی غیر واضح ہے کہ پاکستان کو تو خود سلامتی کے سنجیدہ خدشات کا سامنا ہے، بالخصوص اس کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ اس تنازعے کے سبب جو گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران پھر خونریز ہو چکا ہے۔‘‘
مائیکل کوگلمین کے الفاظ میں، ”پاکستان ثالثی کی جو کوششیں کر رہا ہے، ان کے نتیجے میں مؤثر تحریک اور کامیابی کا امکان تو ہے، لیکن ساتھ ہی انہی کوششوں نے پاکستان کی اس پوزیشن کو بھی مستحکم کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک ایسا بیرونی کردار بن رہا ہے، جس کا اثر و رسوخ مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

ایران کی طرف سے مکالمت کرنے والی ممکنہ شخصیات
پاکستان کے جس اعلیٰ اور باخبر اہلکار نے اس موضوع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی خاطر رابطوں کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف ظاہری انتخاب ہو سکتے ہیں۔
اس وقت 64 سالہ قالیباف تاہم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ان کے امریکہ کے ساتھ کوئی رابطے ہوئے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایرانی حکومت میں اس وقت امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لحاظ سے کوئی اتفاق رائے پایا جاتا ہے، یہی کہا جا سکتا ہے کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے موجودہ ایرانی حکومت کمزور تو ہوئی ہے اور اس کے بیسیوں اعلیٰ اہلکار اور رہنما اب تک مارے بھی جا چکے ہیں، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا موجودہ ایرانی حکومت اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں اس کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ایک سکیورٹی تجزیہ کار علی کے چشتی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پہلے یہ اندزے تھے کہ ایران دو ہیں، یعنی ایران میں بڑی داخلی طاقتیں دو ہیں۔ ایک سیاسی دھڑا اور دوسرا پاسداران انقلاب کا عسکری دھڑا جو سیاسی طور پر بھی بہت مضبوط ہے۔ اب لگتا یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ایک آواز کے ساتھ بول رہے ہیں۔‘‘



