
اقوام متحدہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کا قیام
آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے,اسٹیفن ڈوجارک
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سمندری تجارت کو لاحق خطرات کے پیش نظر ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس اہم عالمی جہاز رانی کے راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے نتیجے میں توانائی، ضروری اشیاء اور خوراک کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
سیکرٹری جنرل کا انتباہ
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ ان نتائج میں توانائی کی قلت، اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی اور آنے والے مہینوں میں زرعی پیداوار پر منفی اثرات شامل ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ عالمی خطرات فوری توجہ کے مستحق ہیں تاکہ بین الاقوامی تجارتی نظام میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ٹاسک فورس کی قیادت اور رکن ممالک
اقوام متحدہ کے مطابق اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس کی قیادت جارج موریرا دا سلوا کریں گے، جو اقوام متحدہ کے دفتر برائے پروجیکٹ سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس ٹاسک فورس میں مختلف عالمی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
ٹاسک فورس میں شامل اہم اداروں میں اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس شامل ہیں۔ ضرورت پڑنے پر دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے گا تاکہ عالمی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔
بنیادی مقصد اور تکنیکی حکمت عملی
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد ایسے تکنیکی طریقہ کار تیار کرنا ہے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے ضروری اشیاء کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے، خاص طور پر کھاد اور اس سے متعلق خام مال، جو عالمی غذائی نظام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اشیاء کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار اور قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ماضی کی کامیاب کوششوں کا تسلسل
یہ اقدام اقوام متحدہ کی ماضی کی کامیاب کوششوں کا تسلسل بھی ہے، جن میں یمن کے لیے نگرانی کا طریقہ کار، بحیرہ اسود اناج معاہدہ، اور غزہ کے لیے خصوصی انسانی امدادی میکانزم شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر بحرانوں کے دوران ضروری اشیاء کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملی تھی۔
قانونی اور سفارتی پہلو
اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ اس نئے طریقہ کار کو تیار کرتے وقت تمام متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں رکن ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ایک متفقہ اور قابلِ عمل حل سامنے آ سکے۔ مزید برآں، سفارتی سطح پر کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی جین ارنالٹ کو متعلقہ ممالک کے ساتھ سیاسی روابط بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی قیادت میں جاری سفارتی مشاورت اس ٹاسک فورس کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
عالمی اثرات اور توقعات
ماہرین کے مطابق اگر یہ اقدام کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف عالمی تجارتی راستے محفوظ رہیں گے بلکہ رکن ممالک کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا، جو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور طویل المدتی امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کو عالمی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ رکاوٹیں عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔



