
شام میں فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات کی جائیں، اقوام متحدہ
جولائی کے وسط میں دروز روحانی رہنما شیخ حکمت الہجری سے وابستہ مسلح گروہوں اور مقامی بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں
عاطف توقیر اے پی
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے شام نے اپنی رپورٹ میں دمشق حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز اور ان اہم کمانڈروں سے متعلق تفتیش کرے، جنہوں نے دروز کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ حملوں کی اجازت دی یا ان کی سرپرستی کی۔
سویدا میں تباہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی
رپورٹ کے مطابق شام کے دروز اکثریتی علاقے سویدا میں ہونے والے تشدد کے باعث تقریباً دو لاکھ افراد بے گھر ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 200 خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
جولائی کے وسط میں دروز روحانی رہنما شیخ حکمت الہجری سے وابستہ مسلح گروہوں اور مقامی بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جس کے بعد حکومتی فورسز نے مداخلت کی اور عملاً بدو قبائل کا ساتھ دیا۔
اس کے بعد پہلے دروز اقلیت کے خلاف اور پھر بدو کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ حملے، اغوا اور دیگر پرتشدد واقعات نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔
حکومت کے وعدے اور عالمی خدشات
شامی صدر احمد الشرع نے ان واقعات کی تحقیقات اور سرکاری فورسز سمیت تمام ذمہ داران کو جوابدہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے دوران اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے کئی ہفتوں تک شام میں قیام کیا، 400 سے زائد متاثرین، حکام اور مبینہ ملزمان کے انٹرویوز کیے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جن میں حکومتی زیر کنٹرول اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دروز گروہوں کے زیرِ اثر علاقے شامل تھے۔
منظم تشدد، لوٹ مار اور عبادت گاہوں کی تباہی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی کارروائیوں کے دوران ”وسیع پیمانے پر لوٹ مار اور آتش زنی کے منظم‘‘ واقعات پیش آئے جبکہ شہریوں کو قتل اور اغوا بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق”خصوصاً دروز آبادی شدید فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔‘‘
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے بعد متعدد افراد کی لاشیں جنگ بندی کے کئی مہینوں بعد بھی سڑکوں، کھیتوں میں پڑی ہوئی، جلی ہوئی حالت میں ملیں جبکہ کچھ کو مسخ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان علاقوں میں تقریباً تمام دروز مذہبی مقامات کو لوٹا، جلایا یا نقصان پہنچایا گیا۔ تین عبادت گاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا جبکہ ایک کو لوٹنے کے بعد تباہ کر دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بدو شہریوں کے خلاف بھی جوابی حملے ہوئے۔ خصوصاﹰ سویدا کے مغربی علاقوں میں ایسے متعدد حملے دیکھے گئے۔ کئی واقعات میں حملے جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
رپورٹ میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں بچوں اور بزرگوں سمیت بدو شہریوں کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا، جب وہ متاثرہ علاقے سے فرار کی کوشش میں تھے۔ ایک واقعے میں دو افراد کی لاشیں کئی دن تک گاؤں کے دروازے پر لٹکی رہیں جب کہ اس دوران چار مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسپتالوں پر دباؤ اور لاشوں کی شناخت کا مسئلہ
تشدد کی شدت کے باعث سویدا اور قریبی درعا شہروں کے اسپتالوں پر شدید دباؤ پڑا، جہاں سینکڑوں لاشیں لائی گئیں اور مردہ خانوں میں جگہ ختم ہو گئی۔
کئی لاشیں شدید جھلسی ہوئی تھیں جبکہ کچھ کھلی جگہوں پر پڑی رہیں، جنہیں ممکنہ طور پر جنگلی جانوروں نے نقصان پہنچایا۔



