
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے دوران بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی جاری رہی، ایمنسٹی انٹرنیشنل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ جون اور جولائی 2026 میں بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا گیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا
نیوز ڈیسک
لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مودی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاونت کر رہی ہے اور اسرائیل کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور پرزوں کی 2,596 کھیپیں بھیجی گئیں۔
بھارتی کمپنیوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کے 390,516 پرزے، دھماکہ خیز اسلحے کے 564,970 اجزا اور فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے فراہم کیے۔ برآمدات میں مشین گن کے پرزے، توپ خانے کے گولے، ڈرون وارہیڈز اور بکتر بند گاڑیوں کے اجزا شامل تھے۔ اسلحہ وصول کرنے والی اسرائیلی کمپنیوں میں ایلبٹ سسٹمز، رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز شامل ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں سرکاری ملکیت کی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ سمیت متعدد بھارتی اسلحہ ساز کمپنیوں کی برآمدات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے قانونی نظام میں اسلحہ برآمد کرنے سے قبل بین الاقوامی انسانی قانون کو لاحق خطرات کا جائزہ لینے کا کوئی میکانزم موجود نہیں۔ اس میں اسلحہ برآمد کرنے کے بھارتی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کی شدید کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارت نے اسلحہ کی تجارت کے معاہدے پر نہ دستخط کیے ہیں اور نہ ہی اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات کے بعد بھارت لاعلمی کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ ایمنسٹی کے مطابق بھارتی کمپنیاں اسرائیلی فوج کو سامان فراہم کر کے بین الاقوامی جرائم میں معاونت کی مرتکب ہو سکتی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ جون اور جولائی 2026 میں بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا گیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، پرزوں اور فوجی آلات کی تمام منتقلی فوری طور پر روکے۔ رپورٹ میں اسرائیل پر جامع اسلحہ پابندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ازالے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔



