پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم کی اوگرا اصلاحات، ایندھن سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام وضع کرنے کی ہدایت

تیل و گیس کے شعبے میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے

سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں بہتری کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تمام اداروں میں یکساں نفاذ یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے جدید ٹریکنگ نظام کو ماڈل بنا کر ملک میں ایندھن کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے استعمال سے بندرگاہوں اور ریفائنریوں سے پٹرول پمپس تک سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اوگرا کی استعداد میں اضافے کے لیے نجی شعبے سے اچھی شہرت کے ماہرین تعینات کیے جائیں، جبکہ ادارے کی تنظیمِ نو کرکے ہر شعبے اور منصب کے لیے ماہرین کی میرٹ پر شفاف طریقہ کار سے تعیناتی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اوگرا کی اصلاحات اور تنظیمِ نو کے لیے حکومت ہر قسم کی پیشہ ورانہ مہارت فراہم کرے گی۔ حکومت عوام کی ایک ایک پائی کا تحفظ کرے گی اور کسی کو عوام کے استحصال اور نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے ادارے کی موجودہ کارکردگی، درپیش چیلنجز اور جامع اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا نے تیل کی سپلائی چین کو بندرگاہ سے پٹرول پمپ تک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ قومی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، ٹینکر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈپو ٹینک ٹیلی میٹری، راہگزر موبائل ایپ، پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل سیلز انٹری سسٹم اور مرکزی مانیٹرنگ سیل جیسے متعدد ڈیجیٹل نظام فعال کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ جولائی 2026 کے دوران ڈیٹا پر مبنی خصوصی مہم کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی، سپلائی میں غیر ضروری رکاوٹوں اور دیگر خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی، جن پر شوکاز نوٹسز، وضاحت طلبی اور دیگر قانونی کارروائیاں کی گئیں۔
اجلاس میں اوگرا کے جامع اصلاحاتی پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن، انفورسمنٹ نظام کی ازسرِنو تشکیل، کمپلائنس ونگ کا قیام، لائسنسنگ نظام میں اصلاحات، قانونی امور کے مؤثر انتظام، مالی وسائل کی مضبوطی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تنظیمِ نو شامل ہے۔
وزیراعظم نے اوگرا کی جانب سے پیش کیے گئے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تیل و گیس کے شعبے میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کی یقینی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ اوگرا کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے درکار قانونی، انتظامی اور پالیسی اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button