پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

قصور میں دو سال قبل مبینہ جعلی پولیس مقابلے کا کیس نیا موڑ اختیار کر گیا، سابق ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، ڈی پی او کا معطلی اور محکمانہ کارروائی کا حکم

متاثرہ خاندان کی درخواستوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیس کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کی گئیں

 ڈاکٹراصغر واہلہ

قصور: پنجاب کے ضلع قصور میں دو سال قبل مبینہ پولیس مقابلے میں لاہور کے رہائشی محمد رضوان کی ہلاکت کے مقدمے نے اہم قانونی موڑ اختیار کر لیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تفصیلی انکوائری میں الزامات درست ثابت ہونے کے بعد سابق ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد سمیت سات پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ضلع پولیس سربراہ (ڈی پی او) قصور نے تمام نامزد اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس پیش رفت کو پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں سے متعلق ایک اہم کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پہلی مرتبہ وفاقی سطح پر ہونے والی تحقیقات کے بعد متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

دو سال پرانے کیس میں نئی پیش رفت

یہ واقعہ تقریباً دو سال قبل پیش آیا تھا، جب لاہور کے رہائشی محمد رضوان کی قصور کے علاقے مصطفی آباد میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاکت ہوئی تھی۔ اس وقت پولیس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم کے ساتھ مقابلہ ہوا، تاہم مقتول کے اہل خانہ نے ابتدا ہی سے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی مقابلہ قرار دیا اور اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

متاثرہ خاندان کی درخواستوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیس کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کی گئیں، جس نے مختلف مراحل میں شواہد، عینی گواہوں کے بیانات، پولیس ریکارڈ، فرانزک مواد اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا۔

ایف آئی اے کی انکوائری میں اہم انکشافات

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مبینہ پولیس مقابلہ قدرتی یا اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس میں سنگین بے ضابطگیاں اور قانونی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔

تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ ثابت ہوا کہ پولیس مقابلے کا سرکاری مؤقف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور واقعے کو خود ساختہ انداز میں پیش کیا گیا۔

رپورٹ میں واقعے میں ملوث متعدد اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

کن اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟

مقدمے میں درج ذیل سات پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے:

  • سابق ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد حسن عمران
  • سب انسپکٹر صادق
  • پولیس اہلکار منصب ڈوگر
  • پولیس اہلکار طارق محمود
  • ہیڈ کانسٹیبل اشتیاق
  • کانسٹیبل محمد یعقوب
  • پولیس ڈرائیور ارشد

ذرائع کے مطابق ان تمام اہلکاروں پر اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ جعلی پولیس مقابلہ ترتیب دینے اور شہری کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ڈی پی او قصور کا سخت ایکشن

ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈی پی او قصور نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد تمام اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق معطلی کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ انتظامی سطح پر بھی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ محکمانہ کارروائی قانون کے مطابق مکمل کی جائے گی اور اگر مزید اہلکاروں کے کردار کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ضمانتیں خارج، ملزمان عدالت سے فرار

ذرائع کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد نامزد اہلکاروں نے عدالت سے رجوع کیا، تاہم عدالت کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

اطلاعات کے مطابق ضمانتیں خارج ہونے کے فوراً بعد سابق ایس ایچ او حسن عمران اور دیگر اہلکار احاطہ عدالت سے فرار ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مفرور اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور جلد انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متاثرہ خاندان کی امیدیں بڑھ گئیں

محمد رضوان کے اہل خانہ نے ایف آئی اے کی رپورٹ اور مقدمہ درج ہونے کو انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مقدمے کی غیر جانبدارانہ سماعت کے بعد ذمہ دار اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

خاندان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو برس سے انصاف کے حصول کے لیے مختلف فورمز پر آواز اٹھاتے رہے اور اب انہیں امید ہے کہ عدالتی عمل شفاف انداز میں مکمل ہوگا۔

جعلی پولیس مقابلوں پر نئی بحث

اس مقدمے نے ایک مرتبہ پھر ملک میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے استعمال اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی پولیس مقابلے میں بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہ صرف انصاف کی فراہمی بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔

تحقیقات اور عدالتی کارروائی جاری

پولیس حکام کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری، شواہد کی تکمیل اور عدالتی کارروائی آئندہ مرحلوں میں جاری رہے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی اور تمام دستیاب شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی منطقی انجام تک پہنچائی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button