پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کے خلاف فیصلہ، توانائی کے تحفظ کے لیے متبادل اقدامات کی تلاش

سمارٹ لاک ڈاؤن کے متنازعہ نفاذ کے بجائے حکومت نے توانائی کے تحفظ کے لیے مزید موثر اور قابل عمل اقدامات کی طرف توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انصار ذاہد-سیال،پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پنجاب حکومت نے توانائی کے بحران اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد صوبے میں سمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جانے والی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے، جس میں توانائی کی بچت کے لیے دیگر متبادل اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے متنازعہ نفاذ کے بجائے حکومت نے توانائی کے تحفظ کے لیے مزید موثر اور قابل عمل اقدامات کی طرف توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ اور توانائی کے بحران کا پس منظر

پنجاب میں توانائی کی قلت کے حوالے سے حکومت نے پہلے ہی کئی کفایت شعاری کے اقدامات کا آغاز کیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی پچھلے ماہ ایندھن کی کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں توانائی کی بچت کے متعدد منصوبے شامل تھے۔ ان اقدامات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کے اضافے کے باوجود عوام کو مزید قیمتوں میں اضافے سے بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی پیٹرولیم کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہونے تک وزراء کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ایندھن کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا مشورہ حکومت کو اس وقت دیا گیا جب توانائی کے بحران نے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار سست کر دی تھی اور حکام نے یہ محسوس کیا کہ اس کا حل سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے توانائی کی بچت میں ممکنہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان متفقہ فیصلہ نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں پنجاب حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے بجائے متبادل اقدامات اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

کفایت شعاری کے اقدامات اور گاڑیوں کی خریداری کی معطلی

توانائی کے بحران اور کفایت شعاری کے تحت، پنجاب حکومت نے اپنے مختلف محکموں کے لیے 100 گاڑیوں کی خریداری روک دی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نہ تو نئے آرڈرز جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی گاڑیوں کی خریداری کے لیے کوئی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ حکومت نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ آئندہ کسی بھی نئی گاڑی کی خریداری صرف ہائبرڈ یا الیکٹرک ماڈلز تک محدود ہو گی تاکہ توانائی کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے کئی ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پنجاب حکومت نے احتیاطی طور پر اس وقت 100 سرکاری گاڑیوں کی خریداری معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے میں اضافی اخراجات سے بچا جا سکے۔

سرکاری دفاتر میں دور دراز کے کام میں اضافہ

پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں دور دراز کے کام (Remote Working) کو بھی بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صرف ضروری عملے کو دفاتر میں رپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ باقی عملہ گھر سے کام کرے گا۔ یہ فیصلہ توانائی کی بچت کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ دفاتر میں کم سے کم توانائی کا استعمال ہو اور سسٹمز کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ سرکاری دفاتر میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ دن کے اوقات میں ایئر کنڈیشنر کا کم استعمال اور غیر ضروری روشنیوں کا بند کیا جانا۔

سرکاری سکولوں کی نئی ہدایات

توانائی کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کو محکمہ تعلیم نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں میں اب ہفتے میں صرف چار دن کام ہوگا، اور باقی تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سکول بند رہیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد توانائی کی بچت کرنا اور تعلیمی اداروں میں توانائی کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ سکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد کریں اور طلباء کو اس نئی پالیسی کے مطابق ہدایات فراہم کریں۔

عوامی اجتماعات کی کمی اور دیگر اقدامات

توانائی کے بحران کے دوران، پنجاب حکومت نے سرکاری بیرونی تقریبات میں کمی کی ہے اور کئی عوامی اجتماعات کو ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ توانائی کے وسائل کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ان تقریبات میں استعمال ہونے والی توانائی کو بچایا جا سکے اور دیگر شعبوں میں توانائی کی فراہمی کو ترجیح دی جا سکے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ توانائی کے بحران کے حل کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں عوامی اور نجی شعبوں کی سطح پر تعاون بڑھانا شامل ہے۔

کفایت شعاری کی نگرانی کمیٹی

پنجاب حکومت نے کفایت شعاری کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو آئندہ ہفتے اپنے اگلے اجلاس میں سابقہ فیصلوں کی توسیع کا جائزہ لے گی اور کمیٹی کے پہلے اجلاس کے نتائج پر رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کمیٹی کا مقصد پنجاب میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات تجویز کرنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کون سے شعبے میں توانائی کی بچت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

پنجاب حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کے خلاف فیصلہ توانائی کے بحران کے دوران کفایت شعاری کے دیگر اقدامات کو اپنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد متبادل اقدامات پر زور دیا ہے، جن میں سرکاری گاڑیوں کی خریداری روکنا، سرکاری دفاتر میں دور دراز کے کام کو بڑھانا اور سکولوں میں تعطیلات کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی اجتماعات میں کمی اور توانائی کے بچت کے لیے دیگر عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ اس عالمی بحران کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button