ڈی پی اے
وفاقی جرمن حکومت کی طرف سے جمعرات 28 مئی کے روز برلن میں اعلان کیا گیا کہ یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک جرمنی اور اس کا ہمسایہ ملک نیدرلینڈز مل کر بالٹک کے علاقے میں اسی سال مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا ایک ایسا مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کریں گے، جو ایک جوائنٹ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر ہو گا۔
برلن میں جرمن وزارت دفاع کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ون جی این سی (1GNC) نامی مشترکہ جرمن ڈچ کمانڈ سینٹر ’’آئندہ چند مہینوں میں نیٹو کے مشرقی بازو کی قیادت کا کردار سنبھال لے گا، خاص طور پر بالٹک میں ایسٹونیا اور لیٹویا کی جمہوریاؤں کے خطے میں۔‘‘
ساتھ ہی جرمن وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا، ’’اس خطے میں نیٹو کے ایک اضافی ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر کی قیادت سنبھال لینے کے ساتھ مغربی دفاعی اتحاد کی داخلی مضبوطی کو بھی تقویت ملے گی اور روس کے حوالے سے مغربی ڈیٹرینس میں بھی اضافہ ہو گا۔‘‘

پچاس ہزار تک فوجیوں کی کمان
نیٹو کا یہ ون این جی سی نامی کمانڈ سینٹر ضرورت پڑنے پر اس اتحاد کے 50 ہزار تک فوجیوں کو کمانڈ کر سکے گا۔
اس کمانڈ سینٹر کے بنیادی فرائض میں فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی اور تکمیل اور کسی ممکنہ تنازعے کے نتیجے میں جنگ شروع ہو جانے کی صورت میں وہاں نیٹو کے دستوں کی قیادت کرنا بھی شامل ہوں گے۔
اس یونٹ کا پورا نام فرسٹ جرمن نیڈرلینڈز کور یا 1GNC ہے اور اب تک اس کے ہیڈکوارٹرز جرمنی کے شہر میونسٹر میں ہیں۔

اس کور کے دستوں کی جب بھی کسی جگہ ضرورت پڑتی ہے، تو انہیں میونسٹر سے ہی نیٹو کے مختلف مشنوں کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
نیٹو کی 1995 میں قائم کی جانے والی کور
اب تک بالٹک کے خطے میں تعینات نیٹو فورسز کی قیادت اس دفاعی اتحاد کے اس ہیڈکوارٹر کے پاس ہیے، جو پولینڈ کے شہر اشٹیٹین میں قائم ہے۔
نیٹو کی ون جی این سی کور کا قیام 1995 میں عمل میں آیا تھا اور اس کی کمان جرمنی اور نیدرلینڈز کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔
اس وقت اس کور کی کمانڈ جرمنی کے پاس ہے، جس کی مدت 2028 کے اوائل میں پوری ہو جائے گی۔

مغربی دفاعی اتحاد کے بالٹک میں نئے کمانڈ سینٹر کے ساتھ وہاں نیٹو دستوں کی فوری اور مؤثر تعیناتی کی اہلیت بھی بڑھ جائے گی۔



