صحتتازہ ترین

ایران جنگ: افریقہ کے لیے بھارتی ادویات کی سپلائی شدید متاثر

ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے اس نظام کو متاثر کیا ہے ، جس سے ترسیل میں رکاوٹیں، لاگت میں اضافہ اور ادویات کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

مرلی کرشنن

خلیجی ممالک کے راستے افریقی مریضوں کو بھارتی ادویات پہنچانے والی راہداری آبنائے ہرمز کی بندش سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے افریقہ میں مقامی دوا سازی کے فروغ پر بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) جیسے اداروں کے مطابق دنیا بھر کی بیماریوں کا تقریباً 25 فیصد بوجھ افریقہ پر ہے، یعنی افریقہ دنیا میں بیماریوں کے مجموعی بوجھ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اٹھاتا ہے، جہاں ایچ آئی وی، تپ دق اور ملیریا کے کیسز غیر متناسب حد تک زیادہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ اور نائجیریا کی دوا ساز ریگولیٹری اتھارٹی NAFDAC کے مطابق بھارت افریقہ کو اس کی درآمدی ادویات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا ہے اور سب سے بڑا پارٹنر ہے۔ نائجیریا، کینیا اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک میں بھارتی جنیرک ادویات اس پبلک ہیلتھ سسٹم کا ایک ستون ہیں، جو لاکھوں افراد کو سستی ادویات فراہم کرتا ہے۔

زمبابوے ایک ایچ آئی وی پازیٹیو ٹی بی کا مریض ہے، اپنے حصے کے طور پر موصول ہونے والی گولیوں کا ایک پیکٹ ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے
افریقی ممالک ادویات کا بڑا ذخیرہ نہیں رکھتےتصویر: Jekesai NJIKIZANA/AFP

انتہائی نازک لاجسٹک راہداری

یہ نظام ایک نازک لاجسٹک راہداری پر انحصار کرتا ہے، جس کے ذریعے بھارتی ادویات خلیجی ممالک کے راستے افریقہ پہنچتی رہی ہیں۔حیدرآباد، احمد آباد اور ممبئی جیسے بھارتی مراکز میں تیار ہونے  والی ادویات افریقی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں تک پہنچنے سے پہلے عموماً دبئی، دوحہ اور ابوظہبی کے خلیجی کارگو مراکز سے گزرتی ہیں۔

تاہم ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے اس نظام کو متاثر کیا ہے ، جس سے ترسیل میں رکاوٹیں، لاگت میں اضافہ اور ادویات کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دوا ساز کمپنیوں کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔

یورپ یا امریکہ کے برعکس، زیادہ تر افریقی ممالک ادویات کا بڑا ذخیرہ نہیں رکھتے۔ وہاں ادویات کی فراہمی محدود ذخائر اور بروقت خریداری کے نظام پر انحصار کرتی ہے، جس کے باعث ادویات کی سپلائی میں معمولی تاخیر بھی فوری قلت کا سبب بن جاتی ہے۔

 بھارت میں مہنگائی کی ایک علامتی تصویر
بھارت میں ایران جنگ کے سبب دیگر چیزوں کے علاوہ دواؤں کی قیمتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہےتصویر: Payel Samanta

بنیادی ادویات کی فراہمی متاثر

ادویات کی عالمی سپلائی چین سے وابستہ ماہر ریمی اڈیسیون نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران صرف کوئی عارضی ترسیلی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک گہری ساختی کمزوری کو بے نقاب کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ”افریقہ اب بھی  بھارتی جنیرک ادویات اور ایشیائی سپلائی چین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کیونکہ فعال اجزا، اضافی مواد اور پیکیجنگ زیادہ تر بھارت اور چین سے درآمد کیے جاتے ہیں۔‘‘

ان کے مطابق موجودہ تنازعے نے ادویات کی تیاری سے لے کر ترسیل تک تقریباً ہر مرحلے پر اخراجات بڑھا دیے ہیں، بشمول خام اجزا، پیکیجنگ، مال بردار جہازوں کے انشورنس اور ایندھن وغیرہ۔ بعض اقسام کے خام مال کی قیمتیں 40 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی ہیں جبکہ پیراسیٹامول کی قیمت تقریباً دوگنا ہو گئی ہے۔

جنوبی افریقہ میں ٹی بی کے ایک مریض کے ہاتھ میں کچھ گولیاں ہیں
افریقہ کے لیے بھارتی ادویات کی سپلائی چین مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے سبب بہت زیادہ متاثر ہےتصویر: Aleksandra Sagan/Canadian Press/empics/picture alliance

بنیادی صحت کی سہولیات کے لیے ضروری ادویات،   ادویات، عام انجیکشنز اور درد کی دوائیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ یہی وہ ادویات ہیں جن کی افریقہ کے کئی کلینکس میں مریض روزانہ دستیابی کی توقع رکھتے ہیں۔

کیا افریقہ اپنا انحصار کم کر سکتا ہے؟

ادویات کی سپلائی میں حالیہ شدید رکاوٹ نے افریقہ میں مقامی دوا سازی کے فروغ پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے ایک ماہر جاوِن بھنڈے کے مطابق بھارت کئی دہائیوں سے کم قیمت مگر ضروری ادویات، خصوصاً ایچ آئی وی کی دوائیں، افریقہ کو فراہم کرتا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیپلا، سن فارما اور ڈاکٹر ریڈی جیسی بڑی بھارتی کمپنیوں نے افریقہ میں اپنی شاخیں اور پیداواری یونٹ قائم کیے ہیں تاکہ مقامی سطح پر فراہمی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تاہم موجودہ تنازعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ سپلائی چین اب بھی کتنی کمزور ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button