امریکہ اور ایران میں ممکنہ معاہدے کی خبریں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے آثار
تاہم یہ دستاویز تب تک کسی باقاعدہ معاہدے یا مفاہمت کی صورت اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری نہ دے دیں۔

By Voice of Germany Urdu News Team
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے مابین ایک ڈیل پر مبینہ اتفاق رائے ہو گیا ہے مگر امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیئس‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کی طرف سے اس ڈیل کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
واشنگٹن سے جمعرات 28 مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ’ایکسیئس‘ نے دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایران اور امریکہ کے مابین موجودہ فائر بندی میں 60 روزہ توسیع سے متعلق ایک مفاہمتی دستاویز پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
اس عرصے کے دوران واشنگٹن اور تہران کے مابین ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت شروع کر دی جائے گی۔ تاہم یہ دستاویز تب تک کسی باقاعدہ معاہدے یا مفاہمت کی صورت اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری نہ دے دیں۔

نیو یارک سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو اس ڈیل سے متعلق مفاہمتی دستاویز یا ایم او یو پر اتفاق رائے ہو جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
اس پیش رفت سے قبل امریکہ نے ایران کے چار ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ایران کے بندرگاہی شہر بندر عباس پر نئے فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
اس کے جواب میں تہران کی طرف سے بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ٹارگٹ کیا۔
’ایکسیئس‘ کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت سے باخبر ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مذاکراتی مندوبین سے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ ڈیل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لیے مزید چند روز درکار ہوں گے۔



