
نیوز ڈیسک
By www.vogurdunews.de
اسلام آباد: حالیہ سفارتی پیش رفت میں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کے کردار میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی مبصرین اور علاقائی طاقتوں نے پاکستان کی متوازن اور فعال سفارتکاری کو مثبت قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ Firstpost نے بھی اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات میں ایران کو سفارتی طور پر سہارا دینے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ نے شدید چیلنجز کے باوجود مذاکرات اور سفارتکاری کے عزم کو برقرار رکھا، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم قدم ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر، ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا اور ایران نے بھی اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید برآں، ایران کی جانب سے پاکستانی طیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
دوسری جانب، بعض عالمی تجزیہ کاروں نے بھارت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے اسے علاقائی کشیدگی میں اضافہ کا باعث قرار دیا ہے۔ خاص طور پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جو ایران پر ممکنہ دباؤ کے دنوں میں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور مخلص ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم ہے، جبکہ دیگر علاقائی طاقتوں کو بھی اسی نوعیت کی تعمیری سفارتکاری اپنانے کی ضرورت ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہی سفارتی رفتار برقرار رہی تو پاکستان مستقبل میں بھی اہم بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔



