مشرق وسطیٰاہم خبریں

گلوبل سمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، پاکستان کی شدید مذمت، سعد ایدھی سمیت کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

پاکستان نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے مشن پر مامور کارکنوں کے ساتھ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

فواد بشارت-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان نے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی مشن “گلوبل سمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی قابض افواج کی کارروائی، انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی مبینہ غیر قانونی حراست اور ناروا سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور سمندری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس غیر قانونی مداخلت کی مذمت کرتا ہے بلکہ زیر حراست تمام انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

سعد ایدھی سمیت کارکنوں کی حراست پر تشویش

پاکستانی حکام کے مطابق زیر حراست افراد میں معروف سماجی کارکن اور ایدھی خاندان سے تعلق رکھنے والے سعد ایدھی بھی شامل ہیں، جن کی گرفتاری پر پاکستان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق فلوٹیلا میں شامل کارکن غزہ کے متاثرہ عوام تک انسانی امداد پہنچانے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے، تاہم بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز نے جہاز کو روک کر اس پر موجود افراد کو حراست میں لے لیا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے مشن پر مامور کارکنوں کے ساتھ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی امدادی جہاز کو روکنا اور اس میں موجود شہریوں کو گرفتار کرنا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہے بلکہ یہ عالمی انسانی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ زیر حراست کارکنوں کے تحفظ، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پاکستانی سفارتی مشنز متحرک

وزارت خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ خطے میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں اور تمام ممکنہ سفارتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی زیر حراست پاکستانی شہری کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

حکام کے مطابق پاکستانی سفارت خانے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ زیر حراست افراد کی صورتحال، قانونی مدد اور صحت سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ تمام کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جا سکے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی امدادی مشنز کو نشانہ بنانا خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس لیے عالمی قوتوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

غزہ کی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف

پاکستان مسلسل غزہ میں جاری انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

حکومت پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انسانی حقوق تنظیموں کا ردعمل

واقعے کے بعد مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے بھی امدادی کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا سفارتی اور قانونی تنازع بن سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر اسرائیل پر سفارتی دباؤ بھی بڑھنے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button