اہم خبریںپاکستان

اسلام آباد: نیشنل ٹیرف کمیشن کی اصلاحات پر وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس

جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت، تیز رفتار فیصلہ سازی اور معیار کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد میں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی کو مؤثر بنانے اور اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔


ادارہ جاتی تنظیم نو ناگزیر قرار

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی ادارہ جاتی تنظیم نو کے بعد اس کی فعال اور مؤثر کارکردگی ملکی صنعت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


قانونی اور انتظامی مسائل کے حل کی ہدایت

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کو درپیش قانونی اور انتظامی مسائل کو جامع حکمت عملی کے تحت حل کیا جائے تاکہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ قانونی عمل کو آسان بنانا کاروباری برادری کے لیے انتہائی اہم ہے۔


مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت پر زور

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف کمیشن کے تمام آپریشنل فنکشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت، تیز رفتار فیصلہ سازی اور معیار کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید طریقوں کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا تاکہ ادارے میں جدت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔


سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے سہولتیں

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ٹیرف کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو کاروباری افراد کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھیں اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنائیں۔


عالمی معیار کے مطابق اصلاحات

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی تنظیم نو اور کارکردگی کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین طریقہ کار (Best Practices) کا جائزہ لیا جائے اور انہیں مقامی سطح پر نافذ کیا جائے۔


ایپلٹ ٹریبونل میں بہتری کی ہدایت

وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف کمیشن کے ایپلٹ ٹریبونل میں قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اپیلوں کے نظام کو سادہ اور مؤثر بنایا جائے تاکہ کاروباری برادری کو فوری انصاف مل سکے۔


افرادی قوت کی تربیت اور ماہرین کی خدمات

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کی افرادی قوت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت دی جائے۔ انہوں نے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔


کیسز کے بروقت فیصلے یقینی بنانے کی ہدایت

اجلاس میں وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن میں کیسز کے فیصلوں میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ایسا مؤثر نظام وضع کیا جائے جس کے تحت تمام کیسز کو مقررہ وقت کے اندر نمٹایا جا سکے۔


اصلاحاتی روڈ میپ پر پیش رفت

اجلاس میں نیشنل ٹیرف کمیشن کے چیئرمین نے وزیراعظم سے منظور شدہ روڈ میپ کے تحت جاری قانونی، انتظامی اور مالی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ ادارہ جاتی بہتری کے لیے مختلف اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے۔


اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت

اجلاس میں متعدد اہم وفاقی وزراء اور حکام نے شرکت کی، جن میں محمد اورنگزیب، جام کمال خان، اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، احد خان چیمہ اور معاون خصوصی ہارون اختر سمیت دیگر متعلقہ سرکاری عہدیداران شامل تھے۔


نتیجہ: اصلاحات سے معاشی بہتری کی امید

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن میں جاری اصلاحات نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گی بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ کریں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button