پاکستانتازہ ترین

شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کا کامیاب ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی افراد محفوظ

کھلے سمندر میں اس نوعیت کے پیچیدہ اور خطرناک حالات میں بروقت اور مربوط ریسکیو آپریشن کسی بھی بحریہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تیاری کا مظہر ہوتا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں ایک بروقت اور مؤثر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے 18 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا۔ یہ کارروائی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی، جس میں مختلف ممالک کے شہریوں کو فوری امداد فراہم کی گئی اور ایک ممکنہ بڑے سمندری حادثے کو ٹال دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق مرچنٹ ویسل MV GOLD AUTUMN کی جانب سے شمالی بحیرہ عرب میں پاکستان کے ساحل سے خاصے فاصلے پر ہنگامی سگنل موصول ہوا۔ صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے فوری طور پر اپنے میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (MRCC) کو فعال کیا اور ہنگامی ردعمل کے تمام پروٹوکولز پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

ریسکیو آپریشن کے لیے پی این ایس حنین کو فوری طور پر متاثرہ جہاز کی جانب روانہ کیا گیا، جو پہلے ہی قریبی سمندری حدود میں معمول کی گشت پر مامور تھا۔ پاک بحریہ کے جہاز نے انتہائی کم وقت میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
پاک بحریہ کے ماہرین پر مشتمل ریسکیو ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت اور تربیت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ جہاز پر پھنسے عملے کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ ٹیم نے زخمی افراد کو فوری طبی امداد دی، جہاز میں لگی آگ پر قابو پانے میں مدد فراہم کی، تکنیکی نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا اور نہایت منظم انداز میں تمام 18 عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا۔

ریسکیو کیے گئے افراد کا تعلق چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا سے بتایا گیا ہے، جو اس جہاز پر مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ امدادی کارروائی کے بعد تمام افراد کو مزید طبی معائنے اور دیکھ بھال کے لیے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق بعد ازاں ان افراد کو ان کے متعلقہ ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
پاک بحریہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے پیچیدہ اور خطرناک حالات میں بروقت اور مربوط ریسکیو آپریشن کسی بھی بحریہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تیاری کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کامیاب کارروائی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھا رہی ہے۔

شہباز شریف نے شمالی بحیرۂ عرب میں کامیاب ہنگامی انسانی امدادی کارروائی کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 18 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک بحریہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فوری ردعمل اور انسان دوستی کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بروقت کارروائی کر کے قیمتی انسانی جانوں کو بچایا، جو قابلِ ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرچنٹ ویسل “گولڈ آٹم” سے موصول ہونے والی ہنگامی اطلاع پر پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے فوری اور مؤثر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ اس کارروائی کے دوران مختلف ممالک بشمول چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
وزیراعظم کے مطابق ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی بحفاظت اپنے ممالک واپسی کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے اس کامیاب آپریشن کو پاک بحریہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری حدود کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ اپنی ذمہ داری کے دائرۂ کار میں ہر قسم کی بحری ہنگامی صورتحال میں ہمیشہ اولین امدادی ادارے کے طور پر کردار ادا کرتی رہے گی اور انسانی خدمت کے جذبے کے تحت ایسے مشنز جاری رکھے

یہ آپریشن اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار میری ٹائم ریاست کے طور پر سمندری بحرانوں میں فوری ردعمل دینے اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ شمالی بحیرہ عرب میں کی گئی یہ کامیاب کارروائی پاک بحریہ کے عزم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے بروقت اقدام کرتے ہوئے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو رونما ہونے سے روک دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button