صحتتازہ ترین

میرپورخاص میں میڈیکل طالبہ کی پراسرار ہلاکت: ہراسانی اور سوشل میڈیا کردار کشی کے الزامات، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فہیمیدہ نے انہیں اساتذہ اور بعض طلبہ کے رویے سے آگاہ کیا تھا، تاہم اہلخانہ اس کی شدت کا اندازہ بروقت نہ لگا سکے۔

By www.vogurdunews.de

میرپورخاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں 21 سالہ میڈیکل طالبہ فہیمیدہ لغاری کی مبینہ خودکشی نے نہ صرف مقامی سطح بلکہ پورے صوبے میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ واقعے کے بعد ہراسانی، ذہنی دباؤ اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فہیمیدہ لغاری، جو محمد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (ابنِ سینا یونیورسٹی) کی تھرڈ ایئر کی طالبہ تھیں، نے مبینہ طور پر اپنے گھر میں والد کی پستول سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اہلخانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں، جس کی بڑی وجہ تعلیمی ادارے میں بعض اساتذہ اور طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے مبینہ ہراسانی تھی۔

سوشل میڈیا کردار کشی کا الزام

اہلخانہ نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر فہیمیدہ کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ بنا کر اس کی کردار کشی کی گئی، جس نے اس کی ذہنی حالت کو مزید بگاڑ دیا۔ متوفیہ کی بہن مہک لغاری کے مطابق فہیمیدہ نے چند روز قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو اس کے لیے انصاف کی جدوجہد کی جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فہیمیدہ نے انہیں اساتذہ اور بعض طلبہ کے رویے سے آگاہ کیا تھا، تاہم اہلخانہ اس کی شدت کا اندازہ بروقت نہ لگا سکے۔

پولیس اور فرانزک تحقیقات

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے متوفیہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کی مدد سے کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

حکومتی ردعمل اور انکوائری کمیٹی

واقعے پر جاوید عالم اوڈھو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی میرپورخاص کو شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

ڈی آئی جی میرپورخاص فیصل عبداللہ چاچڑ نے ایس ایس پی میرپورخاص کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے 10 روز کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی کو مکمل اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ ہراسانی، ادارہ جاتی غفلت اور دیگر تمام ممکنہ عوامل کا تفصیلی جائزہ لے۔

تعلیمی ادارے کا مؤقف

ادارے کی انتظامیہ کے مطابق طالبہ کے والدین کچھ عرصہ قبل شکایت لے کر آئے تھے، تاہم انہوں نے تحریری درخواست دینے سے معذرت کی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدام کے طور پر ایک فارمیسی لیکچرر کو معطل بھی کیا گیا تھا۔

ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم اہلخانہ اس مؤقف سے مطمئن نہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پی ایم ڈی سی کا سخت نوٹس

دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) بھی اس معاملے پر متحرک ہو گئی ہے۔ پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان طالبہ کی اس طرح المناک موت نہایت افسوسناک ہے اور اس کے پس منظر میں سامنے آنے والے الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت کی انکوائری کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار ہونی چاہیے۔

اینٹی ہراسمنٹ نظام پر سوالات

پی ایم ڈی سی نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فعال اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم کریں اور طلبہ کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔ کونسل کے مطابق اگر کسی ادارے میں طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم نہ کیا گیا تو اس کے خلاف سخت ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔

پی ایم ڈی سی نے اس کیس کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے، جس میں ادارے کی کارروائیاں، حکومتی رپورٹ اور دیگر شواہد شامل ہوں گے۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے اور بڑے سوالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ملک کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ، ہراسانی کے خاتمے اور ذہنی صحت کے مؤثر نظام کی شدید ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کے مطابق صرف انفرادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

یہ کیس اب نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اور سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا تحقیقات کے ذریعے ذمہ داران کا تعین کر کے انصاف فراہم کیا جا سکے گا یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button