
ایران کے ساتھ جنگ بندی کو آگے بڑھانا ‘انتہائی مشکل’ ہے: ٹرمپ
اسی کے ساتھ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امن معاہدہ طے پانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گا۔
Published : April 21, 2026 at 9:08 AM IST
واشنگٹن: بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اس ہفتے کے اختتام سے قبل ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ وہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔
ٹرمپ نے ایک فون انٹرویو میں کہا کہ امن معاہدہ طے پانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "وہ چاہتے ہیں کہ میں آبنائے ہرمز کھول دوں۔ ایرانی اسے کھولنے کے لیے بے چین ہیں، لیکن میں اسے اس وقت تک نہیں کھولوں گا جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔”
سنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ہرمز کی ناکے بندی جاری رکھنے اور ایرانی ٹینکر جہاز کو ضبط کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔ ٹرمپ نے کہا کہ "میں جلد بازی میں کوئی برا سمجھوتہ نہیں کرنے والا ہوں۔ ہمارے پاس دنیا بھر کا وقت موجود ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سات اپریل کو جس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، وہ بدھ کی شام (بمطابق امریکی مشرقی وقت) کو ختم ہو جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ توقع کرتے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو حملے فوری طور پر دوبارہ شروع ہو جائیں گے، ٹرمپ نے کہا، "اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو میں یقینی طور پر اس کی توقع کرتا ہوں۔” پیر کی صبح پی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک فون کال میں ٹرمپ نے کہا کہ ”اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے تو بہت سے ‘بم گرنا’ شروع ہو جائیں گے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی مذاکرات کار اسلام آباد میں ہونے والی نئی بات چیت میں شرکت کریں گے؟ ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے نہیں معلوم، میرا مطلب ہے کہ انہیں وہاں ہونا چاہیے۔ ہم وہاں جانے پر راضی ہوئے، حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا، لیکن نہیں، یہ طے ہو چکا تھا۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ وہاں آتے ہیں یا نہیں، اگر وہ نہیں آتے ہیں تب بھی کوئی بات نہیں۔”
ٹرمپ نے پوسٹ کو یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ سینئر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن پیر کی صبح وہ اپنے سابقہ بیان کے برعکس بلومبرگ کو بتایا کہ انھیں نہیں لگتا کہ بات چیت میں ذاتی طور پر شریک ہونا ان کے لیے ضروری ہو گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، پیر کی صبح تک، امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے 27 بحری جہازوں کو واپس کر دیا۔



