بین الاقوامیاہم خبریں

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا ٹرمپ کی مخالفت پر امریکی میڈیا پر حملہ

انہوں نے خاص طور پر The New York Times، The Wall Street Journal اور CNN کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران حقائق بیان کرنے کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں

By VOG Urdu News Team
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بیانات کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں وائٹ ہاؤس نے نہ صرف اپنی پالیسیوں کا دفاع کیا بلکہ امریکی میڈیا کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس نئی پیش رفت نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب بتائے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے امریکی نشریاتی ادارے Fox News کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ ملک کے بڑے میڈیا ادارے موجودہ صورتحال کو درست انداز میں پیش نہیں کر رہے۔ انہوں نے خاص طور پر The New York Times، The Wall Street Journal اور CNN کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران حقائق بیان کرنے کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔
کیرولین لیویٹ کے مطابق میڈیا کا یہ طرز عمل نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ قومی مفادات کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی عوام کو مکمل تصویر نہیں دکھائی جا رہی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک “واقعی اچھے معاہدے” تک پہنچنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت کا سہرا صدر ٹرمپ کی جارحانہ لیکن مؤثر مذاکراتی حکمت عملی اور حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں کو دیا۔ ان کے مطابق ان اقدامات نے ایران پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں سفارتی سطح پر پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ طاقت اور سفارتکاری کا یہ امتزاج ہی امریکہ کو بہتر شرائط پر معاہدہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر CNN کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور بعض دیگر غیر منسلک میڈیا اداروں کو “کرپٹ” قرار دیا۔ ان کے مطابق میڈیا کا ایک حصہ جان بوجھ کر ان کی پالیسیوں کو منفی انداز میں پیش کر رہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان بازی ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہے، جہاں حکومت اپنی خارجہ پالیسی کو کامیاب ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ میڈیا کے کچھ حلقے ان دعوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکہ کے اندر بھی سیاسی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم میڈیا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری بیانیہ جنگ اس عمل کو مزید حساس بنا رہی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف سفارتی پیش رفت کی امید موجود ہے، وہیں اندرونی اور بیرونی سطح پر اختلافات اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ آنے والے دن یہ واضح کریں گے کہ آیا امریکہ واقعی ایران کے ساتھ کسی بڑے معاہدے تک پہنچ پاتا ہے یا یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button