سید عاطف ندیم پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد:خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان کسی بھی براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
ایرانی مؤقف: براہِ راست مذاکرات کی تردید
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات طے نہیں کی گئی۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کا مؤقف پاکستان کے ذریعے پہنچایا جائے گا، اور سفارتی رابطے بالواسطہ ذرائع سے جاری رہیں گے۔
عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد اور اہم ملاقاتیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کی شب اسلام آباد پہنچے، جہاں ان کا استقبال اسحاق ڈار، عاصم منیر اور محسن نقوی نے کیا۔ایرانی سفارت خانے کے مطابق، عباس عراقچی نے بعد ازاں آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت بھی شریک تھی۔ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کا ثالثی کردار
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عاصم منیر حال ہی میں تہران کا تین روزہ دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ اس دورے کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنا اور دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
امریکی وفد کی متوقع آمد
دوسری جانب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق ان کے ساتھ کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی۔
بالواسطہ سفارتکاری کا راستہ
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس میں ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
اس حکمت عملی کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور کسی ممکنہ پیش رفت کے لیے فضا کو سازگار بنانا ہے۔
پس منظر: جنگ، جنگ بندی اور ناکام مذاکرات
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پانچ ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی، جسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس کے بعد اپریل کے اوائل میں اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا، تاہم وہ کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
صورتحال اس وقت مزید نازک ہو گئی جب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری وقت میں اس میں توسیع کا اعلان کیا، جس سے کشیدگی میں وقتی کمی آئی۔
دوسرے دور کی تیاری
اس وقت اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں۔ ایرانی وفد پہلے ہی پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی وفد کی آمد متوقع ہے۔
تاہم ایران کی جانب سے براہِ راست ملاقات سے انکار نے سفارتی عمل کو ایک نئی جہت دے دی ہے، جہاں اب زیادہ تر بات چیت ثالثی کے ذریعے ہی آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
خطے پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق، یہ سفارتی سرگرمیاں نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
اگرچہ براہِ راست مذاکرات فی الحال ممکن نظر نہیں آ رہے، تاہم بالواسطہ سفارتکاری کے ذریعے پیش رفت کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی مسلسل کوششیں اس حوالے سے کلیدی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
نتیجہ
اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے، جہاں اہم علاقائی و عالمی طاقتیں ایک پیچیدہ تنازع کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کوششیں کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچتی ہیں یا نہیں، تاہم فی الحال سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل جاری ہے، جو امید کی ایک کرن ضرور دکھا رہا ہے۔









