بین الاقوامیاہم خبریں

کمبھ میلہ میں افراتفری: “مقدس غسل” کے دوران ہجوم بے قابو، خواتین سے مبینہ ہراسانی پر شدید ردعمل

اس دوران دھکم پیل، چیخ و پکار اور بھگدڑ جیسے مناظر دیکھنے میں آئے، جس سے متعدد افراد خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

 استنبول کے خبر رساں‌ادارے ہابرلر ڈاٹ کام نے رپورٹ کرتے ہوے کہا کہ بھارت میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک کمبھ میلہ کے دوران “مقدس غسل” کی تقریب افراتفری میں بدل گئی، جہاں ہجوم کے بے قابو ہونے کے بعد خواتین کے ساتھ مبینہ ہراسانی کے واقعات نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

ہجوم بے قابو، بھگدڑ جیسے مناظر

عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق، دریا کے کنارے لاکھوں افراد کی موجودگی کے باعث صورتحال تیزی سے خراب ہوئی۔ “ہولی باتھ” کے موقع پر جب زائرین کی بڑی تعداد ایک ہی وقت میں پانی کی جانب بڑھی تو ہجوم قابو سے باہر ہو گیا۔

اس دوران دھکم پیل، چیخ و پکار اور بھگدڑ جیسے مناظر دیکھنے میں آئے، جس سے متعدد افراد خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

خواتین سے مبینہ ہراسانی

افراتفری کے دوران یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ہجوم کے اندر کچھ عناصر نے خواتین کو نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ ہراسانی اور بدسلوکی کی گئی۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ان دعوؤں کو مزید ہوا دی، جس کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

متاثرہ خواتین کی تعداد یا واقعات کی مکمل تفصیلات ابھی تک سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئیں، تاہم یہ معاملہ حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

حفاظتی اقدامات پر سوالات

واقعے کے بعد انتظامیہ اور سیکیورٹی انتظامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اجتماع کے لیے مناسب ہجوم کنٹرول اور سیکیورٹی پلاننگ نہیں کی گئی، جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

ماہرین کے مطابق، ایسے بڑے مذہبی اجتماعات میں ہجوم کے بہاؤ کو منظم کرنے، خواتین کی حفاظت یقینی بنانے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔

تحقیقات کا مطالبہ

واقعے کے بعد مختلف سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عوامی دباؤ کے پیش نظر حکام سے کہا جا رہا ہے کہ ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے انتظامیہ کی ناکامی پر سوالات اٹھائے اور متاثرہ خواتین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

کئی صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی تقریبات میں خواتین کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

حکام کا ابتدائی ردعمل

ابتدائی طور پر مقامی حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے، تاہم مکمل تحقیقات اور باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

کمبھ میلہ جیسے بڑے مذہبی اجتماع میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے بلکہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک اہم چیلنج کو اجاگر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی، سخت سیکیورٹی اقدامات اور فوری ردعمل کے نظام کو یقینی بنانا ضروری ہوگا، تاکہ مذہبی اجتماعات محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کیے جا سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button