ٹرمپ کا آج سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے میں مدد کرنے کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع کرنے کے بعد ایران نے آبنائے کی مؤثربندش کردی جس نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کوم) نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ڈسٹرائرز خلیج فارس میں سرگرم ہیں جبکہ امریکہ کے جھنڈے والے دو تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔
سینٹ کوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ جنگی جہاز ’’اس وقت بحیرہ عرب میں کام کر رہے ہیں اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت میں آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔‘‘ آبنائے ہرمز سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی آپریشن کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تین مئی کے روز کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے، جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دے گی، اور یوں ایران کی طرف سے بند کردہ اس اہم سمندری تجارتی راستے کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کرے گی۔

سینٹ کوم کے بیان میں مزید کہا گیا، ’’امریکی افواج تجارتی جہاز رانی کی بحالی کی کوششوں میں سرگرمی سے مدد کر رہی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا، ’’امریکہ کے جھنڈے والے دو تجارتی بحری جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور محفوظ طریقے سے اپنے سفر پر گامزن ہیں۔‘‘
دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے متعدد وارننگ فائر کرنے کے بعد امریکی جہازوں کے قریب کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون فائر کیے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے ردعمل میں تہران کی افواج نے اس آبنائے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا،جو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جبکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ایران جنگ شروع ہونے کے کئی ہفتے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے دو ہفتوں کے لیے فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن پھر بعد میں اس سیزفائر کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا، تاکہ کوئی ڈیل طے پا سکے۔
ابھی تک لیکن نہ تو یہ جنگ باقاعدہ طور پر ختم ہو سکی ہے اور نہ ہی اس تنازعے کی وجہ سے وسیع تر معاشی نقصانات کا سلسلہ رک سکا ہے۔



