
معرکہ حق۔کشمیریوں کی دعائیں رنگ لائیں…….انعام الحسن کاشمیری
دوتین ہی دنوں میں فضائیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ میں بھارت کو جس شکست وہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اِس نے اُس کے سارے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور اس کے کس بل پوری طرح نکال دیے
پہلگام میں گذشتہ برس 22اپریل 2025کو جو کچھ معصوم اور نہتے سیاحوں کے ساتھ ہوا، اس کی مذمت ہر مہذب فرد نے کی۔ سیاح خواہ اس کا تعلق کسی بھی قوم، قبیلے، مذہب یا ملک کے ساتھ ہو وہ ایک طرح کے مہمان کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا کا کوئی فرد، قوم، ملک اور مذہب اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ اُس کے ساتھ بدتہذیبی کا مظاہرہ کیاجائے کجا کہ اُس کی جان ہی لے لی جائے جیسا کہ پہلگام، مقبوضہ کشمیر میں ہوا۔ بھارتی ایجنٹوں نے خون کی ہولی کھیلی اور کھل کر کھیلی۔ چند سومیٹردور فوجی کیمپ کی موجودگی کے باوجود 26معصوم افراد پر جس طرح گولیاں چلائی گئیں، اس سے تو یہ امر واضح ہوجاتاہے کہ کہیں نا کہیں ملی بھگت تھی۔ اس ملی بھگت کے ڈانڈے ان ایجنٹوں کے اس سیاحتی مقام پر درآنے، فرار ہونے اور پھر کبھی نہ پکڑے جانے سے لے کر قریب ہی واقع فوجی کیمپ سے لے کر دہلی سرکار تک جاملتے ہیں۔
پہلگام کے افسوس ناک واقعہ کی آڑ لے کر بھارت ہم پر چڑھ دوڑا۔ اُس کی دانست میں وہ ایک ہی رات میں ہمارے بخیے ادھیڑ ڈالتا اور ہمیں ”سبق“ سکھاکر آئندہ کے لیے بھیگی بلی بنالیتا۔ ایک قول ہمیشہ سے صادق ہوتا چلا آیا ہے کہ دشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھو۔ بھارت نے ہمیں دشمن تو سمجھ لیا لیکن ساتھ میں کمزور بھی۔ اُس کی نااہل ایجنسیوں نے اُسے پاکستان کے بارے میں غلط رپورٹیں فراہم کیں۔ وہ شاید دونوں ممالک کی فوجوں کاتقابلی جائزہ لیتے رہے۔ وہ ہتھیاروں اورفوجیوں کی تعداد کے اعدادوشمار ہی میں الجھے رہے اور ان سے ہٹ کر اُس چیز کو دیکھ یا پرکھ ہی نہ سکے کہ جو کسی پیمائش یا گنتی کے زمرے میں ہرگز نہیں آسکتی اور وہ ہے جذبہ ایمانی!پھر ایک بات اور بھی ہوتی ہے کہ پیش قدمی کرنے اور دفاع کرنے والوں کے تصورات، خیالات اور تفکرات یکسر جدا ہوتے ہیں۔ دفاع کرنے والے کو ہرصورت اپنی جان بھی بچانا ہوتی ہے اور حملہ آور کو روکنا بھی ہوتاہے۔ حملہ آور کے پیش نظرسامنے آنے والے کو بدمست ہاتھی کی طرح رگیدتے چلے جانا ہے۔ دوتین ہی دنوں میں فضائیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ میں بھارت کو جس شکست وہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اِس نے اُس کے سارے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور اس کے کس بل پوری طرح نکال دیے۔ مودی جی جو سوچ اور امید لے کر چڑھائی کررہے تھے، وہ ساری خاک میں مل گئی۔ انھیں یقینا اندازہ نہ تھا کہ وہ اپنے مشہور زمانہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کا یوں تماشا بنتا ہوا دیکھیں گے۔ اِن طیاروں کی کارکردگی بلاشبہ بہترین ہوئی ہوگی لیکن ہمارے جے ایف تھنڈر طیارے پاک فضائیہ کے جو جوان اڑا رہے تھے، اور ان کی کمان جو لوگ کررہے تھے اُن کے دل جذبہ ایمانی سے معمور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آپریشن کا بنام بنیان المرصوص اور فضائی لڑائی کا نام معرکہ حق رکھنے کے پس منظر میں بھی یہی جذبہ کارفرما تھا۔ سپہ سار اعظم نے نماز ِ فجر کے بعد اللہ اکبر کے فلگ شگاف نعرے کے ساتھ جو آپریشن شروع کیا،بعد میں امریکہ کی مداخلت سے بھات کی جان خلاصی ہوئی۔ اللہ نے ہمیں جس فتح مبین سے سرشار کیا، اِس نے پاکستان کی دھاک پوری دنیا پر بٹھادی۔ یہ اسی فتح کے رہین ِ منت ہے، جو آج پاکستان، امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوا ہے اور اب وہ ثالث کا کردار ادا کررہاہے۔ دنیا پاکستان کی صلاحیت اور قوت کی معترف ہوچکی ہے۔ یہ سب کچھ راتوں رات ہی ممکن نہیں ہوا بلکہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے یقینا دھائیوں کاسفر طے کرنا پڑا ہے اور اگر گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیاجائے تو پاکستان کو یہ مقام دلانے میں کشمیر اور اہلِ کشمیر کا بنیادی کردار ہے۔
تنازع کشمیر قیام ِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ اس تنازع کے باعث بھارت اور پاکستان کبھی اچھے ہمسائے کے طور پر چند دن بھی نہیں گزار سکے۔ بھارت نے اول تو پاکستان کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا دوسرا ریاست جموں وکشمیر پر اپنا حق جتانے کے باعث اُس نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا دشمن جانا اور کوشش کی کہ وہ اُسے نقصان پہنچاتا رہے۔ چنانچہ پاکستان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک طاقت ور اور ہر طرح کی صلاحیت کے حامل دشمن سے نپٹنے کے لیے خود کو بھی طاقت ور بنانا ہے۔ جنرل (ر) غلام مصطفی چوہدری نے گذشتہ دنوں ایک سیمینا رمیں بڑی خوب صورت بات کہی کہ”ملکی حالات چاہے جیسے بھی ہوں، فوج کے پیش نظر ہمیشہ ملکی دفاع کی مضبوطی اور ملکی سلامتی کا تحفظ رہا ہے۔ ہم فوج پر طرح طرح کے الزامات لگاتے رہے، لیکن فوج اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں پوری تندہی کے ساتھ مصروف عمل رہی۔ اُس کی پالیسیاں کبھی نہیں بدلیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اُن میں بہتری آتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھارت نے سمجھا کہ وہ پاک فوج کو چنے چبوانے میں کامیاب ہوجائے گا تو وہ اسی غلط فہمی میں مارا گیا۔“
مسئلہ کشمیر کے باعث بھارت نے پاکستان کے لیے ہمیشہ سے مشکلات کھڑی کی ہیں لیکن دوسری جانب اسی مسئلے کی بدولت پاکستان نے ہمیشہ اپنی فوجی صلاحیت کی بہتری پر توجہ مرکوز کیے رکھی۔ بھارت کی جانب سے ایٹمی طاقت کے حصول کے بعد پاکستان نے اس میدان میں بھی ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ پھر گذشتہ برس پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی ملی، اس کی بنیاد بھی کشمیر ہی بنا۔ اگرچہ اس میں بھارت نے افسوس کہ اپنے ہی شہریوں کو قربانی کابکرا بنایا لیکن اس کا خمیازہ بھی پھر اُس نے اچھی طرح بھگت لیا۔
ہمیں اپنی فوج پر یقینا فخر ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اگر اللہ نہ کرے گذشتہ برس بھارت ہم پر حاوی ہوجاتا، تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ پھر ہمارا کیا حشر ہوتا۔ معاشی اور اقتصادی زبوں حالی اپنی جگہ لیکن جو بدامنی اور افراتفری ہمارے ہاں جنم لیتی استغفراللہ! علاوہ ازیں دشمنوں کو اندرونی طور پر بھی ہمارے دفاع کو نقصان پہنچانے کا موقع مل جاتا۔ اِس نازک موقع پر جب پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا تھا، تب بھی مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہریوں نے بھارتی میڈیا کے لائیو پروگراموں میں ببانگ دہل خود بھارتی فوج کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے صحافیوں کے تابرتوڑ اور گھمن گھیریوں والے ہرسوال کے جواب میں واضح طور پر پاکستان کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ یہ ایسا جرأت مندانہ اقدام تھا جس نے کشمیریوں کی خواہشات اور اُن کی امنگوں کی ایک بار پھر ترجمانی کرتے ہوئے پوری دنیا پر واضح کردیا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں؟ اُن کی مرضی ومنشا کیا ہے اور وہ بھارت سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جب بندوقوں کے سائے میں بھی کشمیریوں کا یہ طرز عمل ہے تو پھربدخواہ چاہے کچھ بھی کہتے رہیں، ہمیں کشمیریوں کی نیت پر کوئی شک نہ کرنا چاہیے۔ یہ بدگمانیاں بھی ہمارے دشمنوں ہی کی پھیلائی ہوئی ہیں تاکہ ہم مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت کے دعوے سے کنارہ کش ہوجائیں۔ پہلگام واقعہ نے تو اس حمایت کو اور زیادہ توانائی بخشی ہے اور مظلوم کشمیری عوام کے جذبوں کو اور زیادہ مہمیز کیا ہے۔ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی میں کشمیریوں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ایک مستحکم، مضبوط اور طاقت ور پاکستان کی امید اور خواہش کی ہے۔ انھیں معلوم تھا کہ اِس معرکہ میں ناکامی کی صورت میں انھیں مزید ظلم وجبر سہنا پڑے گاا ور آزادی کی امید وقتی طور پر مایوسی کے سیاہ اندھیروں میں گم ہوجائے گی۔ چنانچہ جب پاکستان فتح یاب ہوا، تو مقبوضہ کشمیر میں جشن منایا گیا۔ یہ عظیم کامیابی، گویا ان کی کامیابی تھی۔ اُن کی دعائیں آخرکار رنگ لے آئیں۔ اللہ نے اُن کی آدھی دعا کو شرف قبولیت بخش دیا ہے، ان شا ء اللہ وہ بہت جلد دعا کا باقی آدھا حصہ بھی قبول فرماتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارتی تسلط سے آزادی نصیب فرمائے گا۔



