
خبروں کا رزق اور مہنگائی کا سونامی……..حیدر جاوید سید
" یہ حیات ٹاور اصل میں آصف علی زرداری کا ہے " اللہ بخشے ان تحقیقاتی صحافیوں کو ان میں سے جو زندہ ہیں کبھی اپنی ڈھمکیریوں پر تنہائی میں شرمندہ تو ہوتے ہوں گے ویسے شرمندگی آنی جانی چیز ہے بندہ تحقیقاتی صحافی ہونا چاہئے
بین الاقوامی صورتحال اور ایران امریکہ جنگ ( ان دنوں جنگ بندی جاری ہے ) کے پاکستانی تجزیہ کاروں کو اللہ نے دوخبروں کا رزق عطا کردیا ہے ایک کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور دوسری خبر کا برطانیہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے تجزیہ نگاروں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے بھاگ لگے رہیں دہن کے چولہے جلتے رہیں اور ڈالر برستے رہیں
مجھے معاف کیجے گا دیسی یعنی اسلام آبادی خبر بڑوں کے رولے ہیں ہمیں ان بڑوں سے کروڑ ہا درجہ ہمدردی ہے لیکن اسلام آباد کی دو قدیم آبادیوں سید پور اور نورپور نامی بستیوں کے تاراج ہونے اور ہزاروں خاندانوں کے دربدر ہونے پر دُکھ ہے صدیوں سے آباد یہ بستیاں غیرقانونی قرار پائیں بلڈوزر چلے اور سب تہس نہس ہوگیا کیڑے مکوڑے کیا کرسکتے تھے کچھ نہیں بس چند دن روئیں پیٹیں گے پھر حالات کو قسمت کا لکھا ہے والی متھ کی بُکل اوڑھا کر نئی دنیا بسانے کیلئے ہاتھ پاوں ماریں گے جیون بھوگ یہی ہے اور یہ جیون بھوگ ہوتا صرف رعایا کیلئے ہے ہم خود بھی اسی رعایا کا نقد حصہ ہیں اور یہی سب ستاسٹھ برسوں سے بھوگتے آرہے ہیں جہاں تک تعلق ہے ” ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹس ” المعروف حیات ٹاور کا تو یہ بڑے لوگوں کے رولے ہیں ہماری تو ان رولوں کی گرد کو پہنچنے میں سانس پھول جاتی ہے اب تو چند سیڑھیاں اترتے چڑھتے یا چند قدم چلتے سانس پھولنے لگتی ہے اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ بڑے لوگوں کے رولے سے دور رہیں حیات ٹاور کے فلیٹس مالکان میں بڑے بڑے بلکہ بہت بڑے لوگ شامل ہیں سوشل میڈیا مجاہدین کچھ یوٹیوبرز اور صحافی ” ہمت ” کرکے فلیٹس مالکان کے نام لکھ رہے ہیں کچھ کے نام لکھتے ہیں کچھ نام لکھتے ہوئے ان کی بھی سانس پھولنے لگتی ہے ہمیں وہ مہاتما برانڈ تحقیقاتی صحافی یاد آرہے ہیں جو رواں صدی کے دوسرے عشرے کے ابتدائی برسوں میں دھاڑا کرتے تھے کہ ” یہ حیات ٹاور اصل میں آصف علی زرداری کا ہے ” اللہ بخشے ان تحقیقاتی صحافیوں کو ان میں سے جو زندہ ہیں کبھی اپنی ڈھمکیریوں پر تنہائی میں شرمندہ تو ہوتے ہوں گے ویسے شرمندگی آنی جانی چیز ہے بندہ تحقیقاتی صحافی ہونا چاہئے خیر چھوڑیئے ان باتوں کو ان کا فائدہ کچھ نہیں یہاں سب دودھ کے دُھلے ہیں سنا ہے کہ حکومت حیات ٹاور کے فلیٹس مالکان کو فلیٹس کی اوریجنل قیمت ادا کرنے جارہی ہے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنا ” کام ” شروع کردیا ہے کڑواسچ یہ ہے کہ سید پور اور نور پور کی صدیوں سے آباد بستیوں کے کھرب پتی مالکان کے مقابلہ میں حیات ٹاور فلیٹس کے غریب غربا و فقرا مالکان اس کے حقدار بھی ہیں شریف فیملی ویسے بھی ” تم غریبوں فقیروں کی سنو اللہ تمہاری سنے گا ” پر ہمیشہ سے یقین کامل رکھتی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک محنت کش باپ کا فرزند وزیراعظم پاکستان ہو اور حیات ٹاور فلیٹس کے غریب غربا رُل جائیں نور پور اور سید پور کی بستیوں کے رُل جانے والے خاندانوں کیلئے مشورہ یہی ہے کہ صبر کے خیمے میں بیٹھ کر شکر کی تسبیح پڑھیں اللہ بھلی کرے گا
ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں کہ حیات ٹاور فلیٹس مالکان کو اوریجنل قیمت دینے کیلئے ثاقب نثار اور اعجاز الحسن نامی دو سابق منصفوں کی جائیدادیں فروخت کرکے ملنے والی رقم اس فنڈ میں شامل کی جائے جس میں سے فلیٹس مالکان کو رقم دی جانی ہے ضروری نہیں کہ ہم اور آپ فقیر راحموں کے اس مشورے سے متفق ہوں ویسے بھی ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا البتہ ان غریبوں کا نقصان نہیں ہونا چاہئے ایسا نہ ہوکہ وہ پیر سید بری امام رح کی خانقاہ کے لنگر شریف پر گزارا کرنے پر مجبور ہوجائیں کاش اتنی انسانی ہمدردی حکومت وقت نے سید پور و نور پور کی بستیوں کے مکینوں کیلئے بھی دیکھائی ہوتی ملک میں آٹے کی قیمت کو پٙر لگ جانے کی خبریں ہیں بتایا جارہا ہے کہ کراچی میں بیس کلو آٹے کا تھیلہ دوسو روپے مہنگا ہوکر پورے پچیس سو روپے کا ہوگیا ہے پنجاب کے کچھ شہروں میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں چھیاسٹھ روپے سے ایک سو نوے روپے اضاضے کی اطلاعات ہیں آٹے کی قیمتوں کو پٙر لگنے والی خبر چونکہ مسلم لیگ ن کے ابلاغی ہمدرد میڈیا ہاوس نے دی ہے اس لئے یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں خود اس تحریر نویس کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ گزشتہ روز باورچی خانے کا سامان یعنی روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کی ماہانہ خریداری کی جو سامان گزشتہ ماہ بائس ہزار روپے کا خریدا تھا اتنا ہی سامان انتیس ہزار نو سو ستاون روپے کا آیا رکشہ کا کرایہ ملا لیجے تو ساڑھے تیس ہزار روپے بنتے ہیں یہ ہے مہنگائی کی عمومی صورتحال اشیائے خوردونوش کی حکومت کے سستا بازار سے خریداری کا تجربہ ماضی میں کچھ اچھا نہیں رہا اس لئے سہولت بازار کو دور سے تین سلام پھڑکا لیتے ہیں
ہر طرف یہی حالات ہیں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ چکے اس پہ ستم شاہراہوں پر حد رفتار کا نیا قانون ہے جسکی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ میں دواڑھائی گھنٹوں کا سفر ساڑھے تین یا چار گھنٹوں میں طے ہوتا ہے گزشتہ جمعہ اور ہفتہ دودن سفر میں گزرے سفر کیا تھے اذیت سے بھرے ہوئے لمبے عرصے کے بعد جی ٹی روڈ پر سفر کیا تھا ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جی ٹی روڈ کے گرد و نواح میں بسنے والے دوسرے نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری ہیں آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا باتاں شروع کردیں اور کیا لکھ دیا لیکن کیا کیجے چار اور یہی کچھ ہے مہنگائی بے لگام ہے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا جتنا آج مشکل ہے اتنا زندگی کے اب تک کے سفر میں کبھی مشکل نہیں لگا ساڑھے تین سال اقتدار میں رہنے والے ناتجربہ کاروں کا رونا کیا روئیں ان تجربہ کاروں نے جو درگت بنائی ہے وہ خون کے آنسو رونے پر مجبور کرتی ہے ہمارے ہاں ہر حکومت رعایا سے قربانی مانگتی ہے اچھا یہ قربانی مانگنا بس دیکھاوا ہی ہے اصل میں تو ہر حکومت رعایا کا جھٹکا کرتی رہتی ہے رہی سہی کسر مختلف مافیاز پوری کرتے رہتے ہیں اقتدار میں آنے سے قبل جنہوں نے دوسو اور تین سو یونٹ بجلی مفت دینے کا کہا تھا اللہ بخشے پتہ نہیں کہاں چلے گئے رعایا ترس گئی ان کی شکلیں دیکھنے کو کوئی ان کے بارے میں اتا پتا رکھتا ہوتو اطلاع دے کر عنداللہ ماجور ہو ہمیں کوئی سُر پتہ چلا تو آپ کو ضرور بتائیں گے یقین کیجے یوٹیلٹی بلوں نے مت مار رکھی ہے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا سونامی ہے تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہر شخص دوسرے سے پوچھتا پھرتا ہے ” ہوگیا کیا ہمارا بنے گا کیا ؟” جواب مگر کسی کے پاس نہیں کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوتے بلکہ انجام ہوتے ہیں میدانِ سیاست میں گرما گرمی بدستور حسبِ سابق ہے ابتدائی سطور میں دوخبروں کی بات کی تھی اسلام آبادی خبر پر کچھ عرض کرلیا بالائی سطور میں برطانوی خبر پر بات کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں سچ یہ ہے کہ چسکے بازی نہیں ہوتی ہمارے اپنے ہاں ایسی اور اتنی خبریں ہیں کہ پردیسی خبروں سے کیا نکالنا گزشتہ روز عالمی یوم آزادی صحافت تھا کچھ لکھنے کو جی بہت چاہا لیکن چند سطور سے زیادہ نہیں لکھا یوں بھی ہمارے ہاں دستیاب ہر گروہ کے اپنے معیارات اور تقاضا ہائے آزادی صحافت ہیں اس لئے جتنی آزادی دستیاب ہے اس سے کام چلاتے رہتے ہیں مزدوری کیا اور نخرہ کیا پھر بھی جو نوجوان مستقبل میں شعبہ صحافت میں قدم رنجہ فرمانے کے خواہش مند ہیں ان کیلئے مشورہ ہے کہ کُل وقتی صحافت ضرور کریں لیکن متبادل بندوبست لازماً ہونا چاہئے کیونکہ صرف کُل وقتی صحافت سے زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا ہے آج کیلئے اتنا ہی باقی باتیں پھر سہی



