کالمزناصف اعوان

خوشبو کو پھیلنے سے کب کوئی روک سکا ہے…….ناصف اعوان

اُدھر ایران امریکا کشیدگی نے بھی عام زندگی پر اثر ڈالا ہے اب اس میں کمی آرہی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کب اپنا موقف بدل لیں اس کشیدگی سے بہت سے ملکوں کی معیشت بھی ڈگمگائے لگی ہے

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو نظر انداز کرنا یا اس کو عوام کی نظروں میں گرانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے
ماضی کو دیکھیں تو ہمیں واضح طور سے دکھائی دے گا کہ جس عوامی سیاسی جماعت کو سیاسی منظر سے غائب کرنے کی خواہش یا کوشش کی گئی وہ غائب تو کیا ہوتی الٹا مزید ہمدردیاں لے کر ابھر کر سامنے آگئی پی پی پی کی مثال ہمارے سامنے ہے اس کی مقبولیت کم کرنے کی پوری کوشش کی گئی مگر وہ ابھی تک موجود ہے اگرچہ اس شکل میں نہیں جس طرح بی بی شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تھی اسے زوال آیا تو اس کے اپنوں کے ہاتھوں۔ اس کے باوجود وہ ختم نہیں ہوئی اور اقتدار میں بھی آتی گئی اس وقت بھی وہ تخت نشیں ہے اس طرح مسلم لیگ نون میں سے بھی کئی مسلم لیگیں بر آمد ہوئیں اور کچھ ہی دیر کے بعد منظر سے اوجھل ہوگئیں مگر آج بھی اس کا وجود ہے اور وہ بر سر اقتدار ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ کیسے اقتدار میں ہے مگر ہے لہذا اب اگر پی ٹی آئی کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کی جائے تو اس میں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ وہ عوام کے دل و دماغ پر اپنا قبضہ جما چکی ہے بالکل اسی طرح جس طرح زیڈ اے بھٹو کو لوگ والہانہ چاہتے تھے اب بھی وہ پرانے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں اور ان کے کارناموں کا ذکر کرکے رنجیدہ ہو جاتے ہیں لہذا کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی لوگ ٹوٹ کر چاہتے ہیں سب تو نہیں مگر اکثریت اسے سر آنکھوں پر بٹھائے ہوئے ہے ۔صوبہ کے پی کے میں تو عوام کی غالب اکثریت خان کی محبت میں جذباتی ہوئی جاتی ہے وہاں جب کبھی کوئی جلسہ ہوتا ہے تو اس میں لوگ کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں انہیں کسی روک ٹوک کا بھی خوف نہیں ہوتا اسی طرح کسی دوسرے صوبہ میں کوئی جلسہ ہوتا ہے تو بھی منظر بھر پور ہوتا ہے ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب لوگ کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس پر عموماً ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بار بار لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ خان کی رہائی کے لئے باہر نکلیں مگر سوائے خیبر پختونخواہ کے عوام کے وہ نہیں نکل رہے اگر نکلتے بھی ہیں تو بہت کم ۔ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ وہ جتنی مرضی تعداد میں نکلیں جب تک خان کی طرف سے لچک نہیں دکھائی جاتی تب تک ان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ اگر بدلے کے سیاست جاری رہتی ہے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ یہ وقت عملی طور سے کچھ کرنے کا ہے مل بیٹھنے کا ہے ایک دوسرے کو گلے لگانے کا ہے کیونکہ ہماری معیشت ہی نہیں سماجیات بھی برباد ہو چکی ہے کہ ہر کوئی اپنےلئے جی رہا ہے کسی اور کا اسے کوئی خیال نہیں ۔ محبت الفت پیار ہمدردی اور تعاون کہیں دکھائی نہیں دے رہے ایسے میں پی ٹی آئی کے لوگ یہ تاثر قائم کریں کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ کسی سے کوئی انتقام نہیں لیں گے ملک عزیز کو اپنے پا ؤں پر کھڑا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے مل کر چلیں گے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آگے بڑھیں گے ۔
بہر حال سیاسی عدم استحکام نے ہر شعبہ حیات کو متاثر کیا ہے ۔ اُدھر ایران امریکا کشیدگی نے بھی عام زندگی پر اثر ڈالا ہے اب اس میں کمی آرہی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کب اپنا موقف بدل لیں اس کشیدگی سے بہت سے ملکوں کی معیشت بھی ڈگمگائے لگی ہے ۔ ہمارے ہاں تیل مہنگا ہونے سے نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں پہلے والے گمبھیر شکل اختیار کر گئے ہیں لہذا اس صورت میں کوئی ایک بھی سیاسی جماعت معاشی حالات کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ معذرت کے ساتھ کہ موجودہ حکومت سر توڑ کوشش کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں۔ کر پا رہی ۔وہ بھاری قرضوں سے معاملات ریاست چلا رہی ہے ۔ٹیکسوں سے عالمی مالیاتی اداروں کی قسطیں ادا کر رہی ہے کیونکہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں مگر یہ سب وقتی ہے لہذا ہمیں یک جہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اکٹھا ہو کر مسائل سے نمٹا جا سکے
اٹھہتر برس ہونے کے بعد بھی وہ ترقی نہیں ہو سکی جو ہونی چاہیے تھی ہم چین کی مثال پیش کر سکتے ہیں کہ نشئی قوم جو افیم کھا کر جہاں کہیں جگہ ملتی سو جاتی مگر ماؤزے تنگ نے اسے انقلاب کے لئے تیار کر لیا۔ اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ چین سپر پاور بن کر ابھر رہا ہے اور امریکی سامراج کو للکار رہا ہے کیوں؟ کیونکہ اس نے محنت ہمت اور جدو جہد سے ترقی کی منازل طے کر لی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر نظروں سے گزری کہ اس نے ایک ارب لوگوں کو غربت سے نجات دلا دی ہے ایسا اس لئے ہوا ہے کہ وہاں ٹانگ کھینچ کی کوئی گنجائش نہیں ۔بد عنوانی ایک آدھ فیصد ہے جو کوئی کرتا ہے پکڑے جانے پر اسے موت کی سزا دی جاتی ہے ۔اسی طرح ملاوٹ کرنے والے کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں سب چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ایک قوم نہیں بن سکے ہمارے لیڈروں نے اپنے پیٹ بھرے۔ جس سے ترقی کی راہیں مسدود ہوتی چلی گئیں مگر اگر اب بھی دل پسیج جائے تو ہم ستاروں پے کمند ڈال سکتے ہیں کیونکہ کچھ کرنے کے لئے مواقع بہت ہیں قدرتی وسائل بہت ہیں جن کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک طویل عرصے سے قرضوں پر انحصار کرتا چلا آرہا ہے اور ظاہر ہے قرضہ دینے والے اداروں کی شرائط پر عمل درآمد اس کی مجبوری رہی ہے
مگر اب مزید ایسا کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ معیشت کی حالت آکسیجن ٹینٹ میں پڑی سانسیں لے رہی ہے اور اگر عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پھر پورے ملک میں ایک ایسا شور اٹھے گا کہ جس کواہل اختیار نہیں سن سکیں گے لہذا معاشی استحکام کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ سب لوگ متحد ہو جائیں اب وہ وقت گزر چکا ہے کہ جب لوگوں کو بیوقوف بنانا آسان تھا اب شعوری دور سےگذر رہے ہیں سوشل میڈیا کا زمانہ ہے پھر جب انہوں نے اٹھہتر برس گزارے لئے ہیں تو بھی ان کو آسائشیں فراہم نہیں کی جاسکیں اور ان کو آرام وسکون میسر نہیں آسکا لہذا وہ ذہنی طور سے ان سے دور جا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سے وابستگی سے پیچھے نہیں ہٹ رہے وہ جہاں ہیں وہیں کھڑے ہیں اگرچہ موجودہ حکومت کچھ بنیادی نوعیت کے ریلیف بھی دے رہی ہے کچھ آسانیاں بھی پیدا کر رہی ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب عارضی ہے اور بھاری قرضے لے کر کیا جا رہا جن کی وصولی ساتھ ساتھ ہو رہی ہے جو ان کی چیخیں نکلوا رہی ہے لہذا ان کو رام کرنے کے لئے ایک جامع پروگرام بنایا جائے جس سیاسی جماعت سے چشم پوشی کی جارہی ہے اسے سیاسی منظر پر نمودار ہونے دیا جائے اس سے کچھ نہیں ہو گا بات وہی کہ اگر اسے مزید اقتدار میں رہنے کا موقع مل جاتا تو اس کی مقبولیت صفر ہو جاتی اس کا ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہ ہوتا لہذا اب حکمت عملی اختیار کی جائے تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے جس سے معیشت کی گاڑی بھی پٹری پر چڑھ سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button