بین الاقوامیاہم خبریں

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف تمام تر برتر پوزیشن رکھتے ہیں “ایران کمزور، امریکہ مضبوط پوزیشن میں” وائٹ ہائوس

“اب یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ صدر ٹرمپ تمام تر برتر پوزیشن اور پتے اپنے پاس رکھتے ہیں، جبکہ ایران مسلسل دباؤ میں آ رہا ہے۔”

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی برادری جنگ بندی اور سفارتی حل کی امید لگائے بیٹھی ہے، وائٹ ہاؤس نے واضح اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ مزید بڑھانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے امریکی نشریاتی ادارے “سی این این” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے مقابلے میں واضح طور پر برتر پوزیشن میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی قومی سلامتی کی ٹیم تہران کے ایٹمی پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کی کامیابی نے نہ صرف امریکہ کی عسکری برتری کو مزید مستحکم کیا بلکہ ایران کی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی صلاحیتوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ ایران کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے جو اسے ہمیشہ کے لیے ایٹمی عزائم ترک کرنے پر آمادہ کر دے۔

“تمام پتے ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں”

اینا کیلی نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع میں مکمل کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کے پاس سفارتی، اقتصادی اور عسکری تمام آپشنز موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ایران اس وقت داخلی اقتصادی بحران، بڑھتی عوامی بے چینی اور عالمی تنہائی کا شکار ہے، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا:

“اب یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ صدر ٹرمپ تمام تر برتر پوزیشن اور پتے اپنے پاس رکھتے ہیں، جبکہ ایران مسلسل دباؤ میں آ رہا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ امریکی قومی سلامتی ٹیم مسلسل ایسے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے جن کے ذریعے ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔

ایرانی معیشت کا گھیرا تنگ

وائٹ ہاؤس نے گزشتہ روز جاری ایک تفصیلی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحری محاصرہ ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ بیان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر نگرانی، تجارتی راستوں کی بندش اور تیل کی ترسیل پر دباؤ نے تہران کی معیشت کا “گلا گھونٹ” دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی برآمدات میں نمایاں کمی آ چکی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ تیل کی فروخت، جو ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، شدید متاثر ہوئی ہے اور تہران کو اپنے دفاعی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی پابندیوں اور بحری نگرانی نے ایران کی بین الاقوامی تجارت کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث ملکی کرنسی مزید دباؤ کا شکار ہے اور مہنگائی نئی بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔

سی آئی اے کی رپورٹ میں اہم انکشافات

ادھر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایک جائزاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران موجودہ حالات میں مزید صرف تین سے چار ماہ تک ہی مؤثر مزاحمت کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکی اقتصادی دباؤ اور بحری محاصرہ اسی شدت سے جاری رہا تو تہران کی معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل ہی شدید مالی مشکلات، بیروزگاری، افراطِ زر اور عوامی بے چینی جیسے بحرانوں کا شکار تھا۔ 28 فروری 2026ء کو تنازع کے آغاز کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے اور اب ایرانی حکومت کو اندرونی و بیرونی دونوں محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

سی آئی اے کے مطابق:

  • ایرانی زرِمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں
  • تیل کی برآمدات محدود ہونے سے حکومتی آمدنی گر رہی ہے
  • عوامی احتجاج کے امکانات بڑھ رہے ہیں
  • فوجی اخراجات معیشت پر اضافی بوجھ بن چکے ہیں

تہران کے جواب کا انتظار

یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن نے تہران کو ایک “حتمی اور سنجیدہ” تجویز ارسال کی ہے جس کا جواب آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی تجویز میں ایران سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:

  • یورینیم افزودگی محدود کرنا
  • بین الاقوامی ایٹمی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دینا
  • خطے میں اتحادی ملیشیاؤں کی حمایت کم کرنا
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کی ضمانت دینا

اگرچہ ایران کی جانب سے سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت امریکی شرائط کو “غیر متوازن” سمجھتی ہے اور وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گی جو اس کی خودمختاری کو متاثر کرے۔

ٹرمپ کی دھمکیاں برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل یہ انتباہ دیتے آ رہے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا تو فوجی کارروائی کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

انہوں نے ایک حالیہ خطاب میں کہا تھا:

“ہم امن چاہتے ہیں، لیکن اگر امن ممکن نہ ہوا تو امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔”

ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکہ “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ابتدائی طور پر جنگ کے آغاز کے بعد شروع کیا گیا تھا تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں عارضی پیش رفت کے بعد اسے دو دن بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے سب سے بڑے اثرات آبنائے ہرمز پر مرتب ہوں گے، جہاں سے دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

عالمی منڈیوں میں پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں بھی خطرات کے باعث اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کر رہی ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی فوجی جھڑپ یا ناکہ بندی ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

خطے میں خدشات بڑھ گئے

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں دفاعی تیاریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

عالمی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن اس بحران کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ اگر ایران امریکی تجویز مسترد کرتا ہے تو خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، جبکہ مثبت جواب کی صورت میں محدود جنگ بندی یا نئے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

فی الحال دنیا کی نظریں تہران کے اس جواب پر مرکوز ہیں جو نہ صرف امریکہ۔ایران تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button