کالمزمیم سین بٹ

میراجی کی داستان ( ہائیڈ پارک)۔۔۔ میم سین بٹ

میراجی 25 مئی 1912ء کو غالبا" اپنی ننھیال ایمن آباد (گوجرانوالہ) میں پیدا ہوئے تھے ان کے والد منشی مہتاب الدین ریلوے ملازم تھے

لاہور میں زندگی کا بیشتر حصہ گزارنے والے ثناء اللہ ڈار کی جوانی اسی شہر بیمثال کی سڑکوں پر بسر ہوئی تھی ، تقسیم ہند سے برسوں قبل یونیورسٹی گراؤنڈ کے علاقے میں گھومتے پھرتے ثناء اللہ ڈار کو بائیسکل سوار بنگالی دوشیزہ میراسین دکھائی دی تو بنگال کے جادو نے ان پر سحر طاری کردیا اور یہ فوری اس پر عاشق ہو گئے تھے ، میراسین کا گھرانہ جین مندر کی بنگالی بلڈنگ میں مقیم تھا میراسین کے والد ریلوے ملازم تھے اور وہ خود ایف سی کالج کی طالبہ تھی اس زمانے میں ایف سی کالج چوک نیلا گنبد کے قریب بینک سکوائر کے عقب میں نپیئر روڈ پر ہوتا تھا ، میراسین جین مندر کی بنگالی بلڈنگ سے بائیسکل پر نکلتی اور مال روڈ پر آکر وائی ایم سی اے کے سامنے سے گزرنے کے بعد ایف سی کالج جایا کرتی تھی ، ثناء اللہ ڈار وائی ایم سی اے کے سامنے کھڑے رہ کر اس کا انتظار کیا کرتے تھے ان کا سکول میں ہم جماعت رہنے والا دوست اے ڈی فرذوق ایف سی کالج میں میراسین کے ساتھ پڑھتا تھا لہذا یہ اپنے دوست سے ملنے کے بہانے میراسین کو دیکھنے ایف سی کالج بھی پہنچ جایا کرتے تھے اسی طرح دن گزرتے رہے اور پھر بالآخر ایک روز میراسین اپنے والد کے تبادلے پر لاہور چھوڑ گئی مگر ثناء اللہ ڈار کو میراجی بنا گئی تھی ۔۔۔
رانجھا رانجھا کر دی نی
میں آپے ای رانجھا ہووئی
میراجی 25 مئی 1912ء کو غالبا” اپنی ننھیال ایمن آباد (گوجرانوالہ) میں پیدا ہوئے تھے ان کے والد منشی مہتاب الدین ریلوے ملازم تھے جن کے پردادا فاضل ڈار کشمیر کے گاؤں کاروٹ سے گھرانے کے ساتھ ترک وطن کرکے پنجاب چلے آئے تھے اور گوجرانوالہ کے گاؤں اٹارہ میں مقیم ہوگئے تھے منشی مہتاب الدین کی ریلوے ملازمت کے باعث میراجی گجرات (کاٹھیا واڑ ) اور بوستان (بلوچستان)میں بھی مقیم رہے تھے پھر لاہور آکر باغبانپورہ اور مزنگ کے سکولوں میں پڑھتے رہے تھے مگر میٹرک میں فیل ہونے کے بعد انہوں نے پڑھائی چھوڑ دی تھی کیونکہ مغربی ادب کا مطالعہ کرنے سے ذہنی طور پر آوارہ منش ہوگئے تھے دراصل فرانسیسی شاعر چارلس بودلیئر ان کا آئیڈیل تھا بودلیئر بھی میراجی کی طرح نثری نظموں کا علامتی شاعر ، مترجم اور نقاد تھا اور اس نے بھی شادی نہیں کی تھی اس کی "میراسین” کا نام جین ڈیووال تھا ، بودلیئر کی طرح میراجی کو بھی امریکی کہانی کار ایڈگر ایلن پو پسند تھا ، چارلس بودلیئر کا "پیرس کا کرب ” کے عنوان سے نثری نظموں کا مجموعہ شائع ہوا تھا میراجی کو بھی” لاہور کا کرب ” کے عنوان سے لاہور اور اس کے شہریوں کے دکھ درد کو اپنی نثری نظموں کا موضوع بنانا چاہیے تھا بہرحال پڑھائی ترک کرنے کے بعد میراجی نے ڈاکٹر نظام الدین سے ہومیوپیتھی کورس کر لیا تھا جسے انہوں نے دوستوں کے علاج تک محدود رکھا تھا ، میراجی 1937ء سے 1941ء تک مولانا صلاح الدین احمد کے ادبی جریدے ادبی دنیا کے ساتھ بطور مدیر معاون وابستہ رہے تھے انہوں نے آزاد نظم کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
میراجی کی مطبوعہ کتب مین میراجی کے گیت(1943ء) میراجی کی نظمیں (1944ء)گیت ہی گیت (1944ء) اور اس نظم میں (1944ء)ان کی زندگی میں ہی شائع ہوگئی تھیں جبکہ نگارخانہ (1950ء) ، مشرق و مغرب کے نغمے (1958ء) ، خیمے کے آس پاس (1964ء)، تین رنگ و پابند نظمیں (1968ء) میراجی کی وفات کے بعد شائع ہوئی تھیں علاوہ ازیں "میراجی کی نظمیں” کے عنوان سے انیس ناگی نے 1988ء اور مرغوب علی نے 1990ء میں کتابیں مرتب کی تھیں ، میراجی پر پاکستان میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور شیما مجید جبکہ انڈیا میں شاہد احمد دہلوی ، شافع قدوائی اور کمار پوشنی نے بھی کتابیں تحریر کی تھیں ، پاکستان میں ڈاکٹر وزیرآغا ، ڈاکٹر رشید امجد ، مولانا صلاح الدین احمد ، وجیہہ الدین احمد ، محمد حسن عسکری ، اخلاق احمد دہلوی ، محمود نظامی ، الطاف گوہر ، انوار انجم ، مظہر ممتاز وغیرہ نے بھی مضامین تحریر کئے ، طالبہ ونیزہ ارشد نے میراجی پر بی ایس (اردو) کا مقالہ لکھا تھا ۔
حلقہ ارباب ذوق کے ساتھ میراجی کا مختصر مگر بھرپور تعلق رہا تھا حلقے میں میرا جی پہلی بار 25 ۔ اگست 1940ء کو شریک ہوئے تھے انہیں قیوم نظر حلقے میں لائے تھے اور پھر میراجی حلقہ ارباب ذوق کے ہی ہو کر رہ گئے تھے حلقے میں پڑھی جانے والی تخلیقات میں خامیوں کی نشاندہی کیلئے تنقید کا سلسلہ میراجی نے ہی شروع کرایا تھا ورنہ پہلے تخلیقات پر صرف واہ وا ہی کی جاتی رہی تھی انہوں نے نہ صرف حلقہ ارباب ذوق کے اغراض و مقاصد کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تھا بلکہ حلقے میں تنقید کے بنیادی اصولوں کو وضح کرنے میں بھی مدد دی تھی میراجی نے حلقے میں اپنی نظمیں "چشم تر” 16 فروری 1941ء ، "دھوبی کا گھاٹ” 9۔ مارچ 1941ء اور "اونچا مکان” 20 ۔ اپریل 1941 ء کو پڑھی تھیں انہوں نے 1940ء سے 1942ء تک لاہور میں رہتے ہوئے حلقہ ارباب ذوق میں 1 انشائیہ ، 3 مقالے اور 16 نظمیں پڑھی تھیں اس دوران انہوں نے 13 اکتوبر 1940ء کو پہلی بار حلقہ ارباب ذوق کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت بھی کی تھی جس میں راجندر سنگھ بیدی نے اپنے ناول کے 3 باب پڑھے تھے حلقے میں 1941ء کے دوران پڑھی جانے والی نظموں کا انتخاب بھی میراجی نے ہی کیا تھا اور انہیں کتابی صورت میں شائع کرایا تھا ان نظموں میں میراجی کی نظم ” دھوبی کا گھاٹ” بھی شامل تھی نظموں کے اس مجموعے کا ابتدائیہ بھی میراجی نے ہی تحریر کیا تھا ۔
میراجی نے حلقہ ارباب ذوق لاہور کا سیکرٹری اور اسسٹنٹ سیکرٹری بننے کی بھی کوشش کی تھی جو ان کے قریبی احباب نے ہی ناکام بنادی تھی ، میراجی نے 25 ۔ مئی 1941ء کو سیکرٹری کی نشست پر سید نصیر احمد جامعی کے مقابلے پر الیکشن میں حصہ لیا مگر ہار گئے پھر اسی وقت جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر سید امجد حسین کے مقابلے پر امیدوار بنے مگر کامیاب نہ ہو سکے حالانکہ ان سادات دانشوروں میں سے کوئی مقابلے سے دستبردار بھی ہوسکتا تھا اگلے برس میراجی سیکرٹری کی نشست پر دوبارہ امیدوار بنے مگر ان کے اور سید امجد حسین کے ووٹ برابر نکلنے پر صدر مجلس دیوندر ستھیارتھی نے اپنا ووٹ سید امجد حسین کو دے دیا تھا یوں میراجی کی حلقہ ارباب ذوق لاہور کا سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری بننے کی خواہش پوری نہ ہوسکی تھی پہلی بار ہارنے پر میراجی کو قیوم نظر اور شیر محمد اختر کے ساتھ حلقہ ارباب ذوق کی مجلس انتظامیہ کا رکن چن لیا گیا تھا حلقے کی مجلس انتظامیہ 7۔ فروری 1941ء کو میراجی کی زیرصدارت ایبٹ روڈ پر منعقدہ اجلاس میں تشکیل دی گئی تھی ، جون 1941ء سے حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اکثر اجلاس تکیہ سردار شاہ مزنگ میں میراجی کی رہائش گاہ پر ہوتے رہے اور بیشتر اجلاسوں کی صدارت خود انہوں نے ہی کی تھی ، میراجی نے حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں آخری مرتبہ 26 ۔ فروری 1942ء کو شرکت کی تھی یہ اجلاس ان کی ہی زیرصدارت برانڈرتھ روڈ کی احمدیہ بلڈنگز میں منعقد ہوا تھا ۔
حلقہ ارباب ذوق لاہور میں سیکرٹری کی نشست پر دوبارہ انتخاب میں شکست کھانے پر میراجی غالبا” دلبرداشتہ ہو کر لاہور چھوڑ گئے تھے اور دلی جا کر آل انڈیا ریڈیو پر ملازمت کرنے لگے تھے جہاں انہیں محمود نظامی نے بلوایا تھا ، میراجی دہلی کے ادبی جریدے ساقی میں کالم "باتیں” بھی لکھتے رہے تھے ، دہلی پہنچ کر میراجی نے وہاں بھی جنوری 1945ء میں حلقے کی شاخ قائم کر دی تھی جس کے وہ پہلے عبوری سیکرٹری ، اکرام قمر جائنٹ سیکرٹری جبکہ تابش صدیقی ، محمد حسن عسکری اور مختار صدیقی رکن مجلس عاملہ بنے تھے ، دہلی پہنچ کر میراجی نے میراسین کو تلاش کرکے اس سے ملنے کی کوشش نہ کی تھی جس کے بارے میں کسی نے تحقیق کی تھی کہ وہ گرلز کالج میں پروفیسر بن گئی تھی دراصل میراجی کا عشق بھی نرالا تھا انہیں میراسین کے وجود سے زیادہ اس کے تصور سے عشق رہا تھا انہوں نے اپنی نظم "چل چلاؤ” میں غالبا” اسی طرف اشارہ کیا ہے ۔۔۔
بس دیکھا اور بھول گئے
جب حُسن نگاہوں میں آیا
من ساگر میں طوفان اٹھا
دہلی سے سیشن45۔ 1944ء کے دوران میراجی نے لاہور آکر حفیظ ہوشیار پوری کی زیر صدارت حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں ن م راشد کی نظم "داشتہ”پر مقالہ پڑھا تھا ، 1945ء میں محمود نظامی کے ساتھ ہی میراجی بھی بمبئی منتقل ہو گئے تھے جہاں وہ کرشن چندر کے گھر رہنے لگے تھے بمبئی میں میراجی نے 2 فلموں کے مکالمے اور گیت لکھنے کے علاوہ ایک فلم میں کردار بھی ادا کیا تاہم فلموں میں میراجی کے قدم نہ جم سکے اور وہ عسرت کی زندگی بسر کرتے رہے تقسیم ہند پر میراجی لاہور واپس نہ آئے تھے بالآخر اختر الایمان نے 1948ء میں میراجی کو 100 روپے ماہوار تنخواہ پر اپنے ادبی جریدے "خیال” کا مدیر مقرر کردیا تھا زندگی کے آخری دن بھی میراجی نے اختر الایمان کے گھر میں ہی گزارے تھے بعدازاں بیمار ہونے پر بمبئی کے کنگ ایڈورڈ ہسپتال میں داخل ہو گئے جہاں 3 ۔ نومبر 1949ء کو ان کا صرف ساڑھے 37 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا ان کی تدفین میری لائن قبرستان میں کی گئی جنازے میں صرف چار پانچ افراد شریک ہوئے تھے ، میراجی کی خواہش رہی تھی کہ وہ بازاری گویئے بن کر گلی گلی بستی بستی گھومتے پھریں اور یونہی زندگی گزار دیں ۔۔۔
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
سوجھ بوجھ کی بات نہیں من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا
لاہور کے دانشوروں کو میراجی کے انتقال کی خبر ہفتے بعد ہوسکی تھی اختر الایمان نے قیوم نظر کو خط میں اطلاع دی تھی جس پر انڈیا کافی ہاؤس لاہور میں 11 نومبر 1949ء کو حلقے کا تعزیتی جلسہ ہواتھا اور تعزیتی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ حلقہ ارباب ذوق لاہور کا یہ جلسہ میراجی کی بے وقت موت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتا ہے مرحوم نے حلقہ ارباب ذوق کو مکتب خیال بنانے میں پوری سرگرمی اور انتھک کوششوں سے کام لیا اس انجمن کو جدید بنانے میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے انہوں نے تعمیری تنقید کو فروغ دے کر حلقے کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اسے دوسری ادبی انجمنوں کیلئے نمونہ بنانے میں سب سے زیادہ حصہ لیا ، حلقہ ارباب ذوق لاہور آج جس مقام پر ہے وہ اسی شخصیت کی ہمہ گیریت ، خلوص اور محبت کا نتیجہ ہے حلقہ ارباب ذوق اپنے محسن اور جدید اردو شاعری و تنقید کے اس مقتدر رکن کی دائمی جدائی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے ! میراجی کے قریبی دوست مبارک احمد نے ان کی یاد میں نظم کہی تھی ۔۔۔
آئینہ امروز میں تمہاری شبیہ
پہلے کی طرح اب بھی زندہ ہے
تم ان میں سے ہو
جو نہیں ہیں اور ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button