پاکستاناہم خبریں

پاکستان میں ایرانی طیاروں سے متعلق سی بی ایس رپورٹ مسترد، حکومتی وضاحت جاری

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو “گمراہ کن” قرار دے دیا گیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان نے امریکی نشریاتی ادارے CBS News کی اُس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیارے کسی غیرمعمولی یا حساس فوجی سرگرمی کے سلسلے میں موجود ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ “قیاس آرائیوں، سنسنی خیزی اور گمراہ کن معلومات” پر مبنی ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امن کے عمل کو متاثر کرنا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ایسی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا گیا۔


ایرانی اور امریکی وفود کی سفارتی نقل و حرکت

حکومتی وضاحت میں کہا گیا کہ جنگ بندی کے بعد اور اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے۔

ان پروازوں کا مقصد مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے, سکیورٹی ٹیموں, انتظامی و تکنیکی اہلکاروں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانا تھا۔

ذرائع کے مطابق بعض طیارے اور معاون عملہ پاکستان میں عارضی طور پر موجود رہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ سفارتی دوروں اور رابطوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔


ایرانی طیارے کی موجودگی کی اصل وجہ سامنے آگئی

پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان میں موجود ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران پہنچا تھا اور اس کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال، خفیہ آپریشن یا حفاظتی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ:

“ایرانی طیارے کی موجودگی کو فوجی تناظر میں پیش کرنا محض قیاس آرائی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور حقائق سے انحراف ہے۔”

حکام کے مطابق یہ انتظامات مکمل طور پر سفارتی اور لاجسٹک نوعیت کے تھے، جنہیں معمول کے بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت انجام دیا گیا۔


ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ اسلام آباد کا حوالہ

بیان میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران بھی انہی انتظامی اور لاجسٹک سہولیات کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان نے بطور میزبان ملک سفارتی وفود کو درکار سہولتیں فراہم کیں تاکہ مذاکراتی ماحول کو برقرار رکھا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔


پاکستان کا مؤقف: “غیر جانبدار اور ذمہ دار سہولت کار”

حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی ذمہ دارانہ کوششیں جاری رکھے گا۔

سرکاری بیان کے مطابق:

  • پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شفاف رابطہ برقرار رکھا
  • سفارتی سرگرمیوں میں غیر جانبدار کردار ادا کیا
  • کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھا

حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں جنگ یا تصادم کے بجائے بات چیت، سفارت کاری اور سیاسی حل کا حامی ہے۔


علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں

بیان کے اختتام پر حکومت نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں:

  • سفارتی رابطے جاری ہیں
  • اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا سلسلہ برقرار ہے
  • مذاکراتی ماحول کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے

پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ اور قیاس آرائی پر مبنی رپورٹس کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے تاکہ حساس علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button