اہم خبریںپاکستان

لکی مروت میں ہولناک خودکش دھماکہ، 9 افراد جاں بحق، 37 زخمی سرائے نورنگ کے مصروف بازار میں دھماکہ، علاقے میں خوف و ہراس

دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک ہولناک خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق جبکہ 37 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ تحصیل سرائے نورنگ کے مرکزی بازار میں اس وقت ہوا جب ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری تین پہیوں والی گاڑی کے ذریعے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ بازار میں موجود دکانوں، گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔


خودکش حملہ آور نے پھاٹک کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا

خبر رساں ادارے AFP کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ خودکش حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی میں سوار تھا اور اس نے سرائے نورنگ میں ایک پھاٹک کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے وقت بازار میں معمول کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔


زخمیوں کو بنوں کے اسپتال منتقل کر دیا گیا

خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق ریسکیو 1122 حکام نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق:

  • 9 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے
  • 37 افراد زخمی ہوئے
  • متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے
  • شدید زخمیوں کو فوری طور پر بنوں کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا

امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔


ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

ٹی ایچ کیو اسپتال سرائے نورنگ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محمد اسحاق نے بتایا کہ زخمیوں کو مسلسل اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا:

“اب تک 37 زخمیوں کو اسپتال لایا جا چکا ہے جن میں بعض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔”

واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔


ابتدائی تحقیقات، حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا

سینئر پولیس افسر محمد سجاد خان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے چیک پوسٹ کے قریب موجود دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت خودکش حملہ معلوم ہوتی ہے جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل یونٹ اور فرانزک ٹیموں نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔


چند روز قبل بنوں میں بھی بڑا خودکش حملہ

یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل ضلع بنوں میں بھی ایک مہلک خودکش حملہ پیش آیا تھا۔

اس حملے میں ایک کار بم چیک پوسٹ کے قریب دھماکے سے پھٹ گیا تھا، جس کے بعد شدت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی تھی۔ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔


پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی

حالیہ حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں اسلام آباد میں تعینات افغان سفارتکار کو طلب کیا تھا۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بنوں میں ہونے والے حالیہ حملے کی منصوبہ بندی “افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر” نے کی تھی۔

تاہم افغان طالبان حکومت مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف شدت پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔


سرحدی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات حالیہ مہینوں میں کئی مرتبہ سرحدی جھڑپوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

دفاعی و سفارتی ذرائع کے مطابق:

  • سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات بڑھے ہیں
  • عسکری کارروائیوں میں شدت آئی ہے
  • پاکستان کی جانب سے افغان علاقوں میں فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں
  • دونوں ممالک ایک دوسرے پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔


عوام میں خوف، سکیورٹی مزید سخت

لکی مروت دھماکے کے بعد علاقے بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی ہے جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

مقامی شہریوں نے واقعے پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button