سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آصف علی ذرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر کوہاٹ کے قریب اپنی جان قربان کرکے مقامی آبادی کو بڑی تباہی سے بچانے والے بہادر شہری لیاقت علی کو بعد از شہادت ’’ستارۂ شجاعت‘‘ عطا کر دیا۔
اعزاز کی خصوصی تقریب میں شہید لیاقت علی کی والدہ نے اپنے بیٹے کی جانب سے قومی اعزاز وصول کیا۔ تقریب کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ حاضرین نے شہید کی قربانی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
حکومتی حکام، سکیورٹی اداروں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
خودکش دہشت گرد کو روک کر جانیں بچائیں
سرکاری ذرائع کے مطابق شہید لیاقت علی نے ایک خودکش دہشت گرد کو بروقت روک کر مقامی آبادی کو بڑے جانی نقصان سے بچایا۔
اطلاعات کے مطابق دہشت گرد شہری آبادی کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، تاہم لیاقت علی نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے اور اس دوران اپنی جان قربان کر دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہ جرات مندانہ اقدام نہ کرتے تو قیمتی انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔
وزیراعظم کا شہید کو خراجِ عقیدت
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید لیاقت علی نے ہمت، قربانی اور بہادری کی ایسی مثال قائم کی ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا:
“دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اور قوم اپنے شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔”
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا ہر شہری وطن کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا ہے اور دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔
’’بزدل دہشت گرد قوم کا حوصلہ نہیں توڑ سکتے‘‘
شہباز شریف نے کہا کہ شہری آبادیوں، معصوم بچوں اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے والے بزدل دہشت گرد دراصل پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن پوری قوم متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا:
“مجھ سمیت پوری قوم شہید لیاقت علی اور ان کے اہل خانہ کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔”
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاستی ادارے اور عوام اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ستارۂ شجاعت کی اہمیت
ستارۂ شجاعت پاکستان کا ایک اعلیٰ سول اعزاز ہے جو غیر معمولی بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔
یہ اعزاز ان شخصیات کے لیے مخصوص ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی حفاظت کی ہو یا قومی مفاد کے لیے غیر معمولی قربانی دی ہو۔
لیاقت علی شہید کو یہ اعزاز دیا جانا اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی قربانی صرف ایک فرد کی بہادری نہیں بلکہ قومی غیرت، حب الوطنی اور عوامی تحفظ کی علامت بن چکی ہے۔
اہل خانہ کے حوصلے کو قوم کا سلام
اعزاز وصول کرنے کے موقع پر شہید کی والدہ کے جذباتی مناظر نے تقریب کے شرکاء کو آبدیدہ کر دیا۔
مختلف سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شہید کے اہل خانہ کے صبر، حوصلے اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے لیاقت علی شہید کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کے لیے دعاؤں اور خراجِ عقیدت کے پیغامات جاری کیے۔
دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کا پیغام
سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیاقت علی شہید کی قربانی پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور مزاحمت کی ایک مضبوط علامت بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی غیر معمولی جرات اور قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے قومی ہیروز کی قربانیاں نوجوان نسل کے لیے حوصلے، حب الوطنی اور انسانیت کے تحفظ کا روشن پیغام ہیں۔



