‘کودوکُوشی‘: جاپان میں تنہائی میں اموات کا بڑھتا ہوا رجحان
بڑھتی ہوئی تنہائی اور سماجی دوری نے جاپانی معاشرے میں خاندانی نظام اور شہری طرز زندگی دونوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ٹوکیو حکومت اور ملکی پولیس کی جانب سے اپریل کے آخر میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران پورے جاپان میں 76 ہزار 941 افراد تنہائی میں موت کا شکار ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 921 زیادہ تھی۔ حکام کے مطابق ان میں سے 22 ہزار سے زائد افراد کی لاشیں کم از کم آٹھ دن تک دریافت نہ کی جا سکیں جبکہ ایسے سات ہزار سے زیادہ واقعات میں تو مرنے والوں کی موت کا پتا ایک ماہ گزرنے کے بعد چلا۔
اس رجحان کے سب سے زیادہ شکار معمر افراد
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کا سب سے زیادہ شکار معمر افراد بن رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تنہائی اور سماجی دوری نے جاپانی معاشرے میں خاندانی نظام اور شہری طرز زندگی دونوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ٹوکیو کی چؤو یونیورسٹی کے ثقافتی سماجیات کے پروفیسر ایزومی تسوجی کے مطابق جاپانی معاشرہ بہت تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”ماضی میں ایک ہی گھر میں کئی نسلوں کے افراد کا مل کر رہنا معمول تھا۔ مگر اب خاص طور پر شہروں میں یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘‘ ان کے بقول روایتی خاندانی ڈھانچوں کے ٹوٹنے اور انفرادی طرز زندگی کے فروغ نے لوگوں کو سماجی طور پر الگ تھلگ کر کے رکھ دیا ہے۔
شہرو ں کی جانب نقل مکانی
ماہرین کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں جاپانی نوجوان بہتر تعلیم اور اچھے روزگار کی تلاش میں دیہی علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب منتقل ہوئے، جس کے نتیجے میں دیہات میں رہ جانے والے بزرگ مزید تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف شہروں میں بھی لوگ بلند و بالا اپارٹمنٹ بلڈنگز میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جہاں پڑوسیوں سے تعلق صرف رسمی حد تک ہی ہوتا ہے۔

پروفیسر تسوجی کہتے ہیں، ”پہلے جاپانی محلوں میں کھلی جگہیں ہوتی تھیں، بچے مل کر کھیلتے تھے اور پڑوسی ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ اگر کسی کو مدد درکار ہوتی تھی، تو پوری کمیونٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی۔ مگر جدید شہری زندگی نے اس سماجی ربط کو کمزور کر دیا ہے۔‘‘
حکومتی اقدامات
اسی بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر جاپانی حکومت نے بھی متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ 2021 میں ”تنہائی اور سماجی علیحدگی‘‘ کے خلاف وزارت قائم کی گئی تاکہ خودکشی، ذہنی دباؤ اور تنہائی جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔
اس کے بعد اپریل 2024 میں حکومت نے Loneliness and Isolation Countermeasures Act نافذ کیا، جس کے تحت مقامی اداروں کو ایسی خصوصی ایجنسیاں قائم کرنے کے لیے کہا گیا، جو اکیلے رہنے والے باشندوں سے رابطے کریں اور انہیں اجتماعی سماجی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں۔
ان حکومتی کوششوں کے نتیجے میں مختلف مقامی انجمنیں اور فلاحی تنظیمیں متحرک ہوئی ہیں۔ اب بزرگوں کے لیے اجتماعی سماجی تقریبات منعقد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیمنشیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی خصوصی کیفے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے امدادی نیٹ ورکس بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں تاکہ تنہائی کے شکار افراد کو دوبارہ معاشرے کے مرکزی دھارے سے جوڑا جا سکے۔



