سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، آئی ایس پی آر کے ساتھ
پاکستان نے بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک مضبوط اور خودمختار ریاست ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے جغرافیہ، تاریخ اور تزویراتی توازن کا ناقابلِ تردید حصہ بھی ہے۔
بھارتی آرمی چیف کی جانب سے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بیان دیا گیا تھا کہ “پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔” اس بیان کو آئی ایس پی آر نے غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
ایک خودمختار ملک کو ’جغرافیے‘ سے مٹانے کی دھمکی دنیا کوئی سٹریٹیجک سگلنگ یا برنک مین شپ نہیں ہے بلکہ یہ ذہنی صلاحیت کا دیوالیہ پن، جنون اور جنگ پسندی کی واضح نشانی ہے جبکہ وہ اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہے کہ اس قسم کی جغرافیائی تباہی یقیناً اور ہمہ گیر ہو گی۔ ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، سنجیدگی اور سٹریٹیجک بردباری کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہ تہذیبی بالادستی یا کسی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی زبان استعمال نہیں کرتیں۔
پاکستان ایک حقیقت، ایٹمی طاقت اور خطے کا اہم ملک
آئی ایس پی آر کے مطابق ہندوتوا نظریے کے زیراثر بھارتی قیادت آج بھی قیام پاکستان کی حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرپائی۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ، ذمہ دار اور اعلان شدہ ایٹمی طاقت ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خطے میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسند قوم پرستی اور توسیع پسندانہ سوچ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بنتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہی ذہنیت ماضی میں بھی خطے کو کئی جنگوں، سرحدی تنازعات اور خطرناک بحرانوں کی طرف دھکیل چکی ہے۔
“پاکستان کو مٹانے” کی سوچ غیر ذمہ دارانہ قرار
آئی ایس پی آر نے اس امر پر زور دیا کہ کسی خودمختار ایٹمی ریاست کو “جغرافیہ سے نکالنے” کی دھمکی دینا کسی بھی طرح ذمہ دارانہ سفارتکاری یا اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ سیاسی انتہا پسندی اور خطرناک ذہنیت کا اظہار ہے۔
ان کے مطابق ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس قسم کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذمہ دار ریاستیں تحمل، تدبر اور سفارتی حکمت عملی کو ترجیح دیتی ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کے قومی وجود کو چیلنج کرنے والی زبان استعمال کرتی ہیں۔
بھارت کا جنگی جنون اور عدم استحکام
بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خود خطے میں عدم استحکام، دہشت گردی کی پشت پناہی اور خفیہ کارروائیوں کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور واقعات میں بھارتی خفیہ نیٹ ورکس، بیرونی ممالک میں مبینہ مداخلت اور غلط معلومات پھیلانے کی مہمات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق نئی دہلی کا جارحانہ طرز عمل دراصل پاکستان کو دباؤ میں لانے میں ناکامی اور خطے میں بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے۔
“مارکۂ حق” کے دوران بھارتی مؤقف بے نقاب ہونے کا دعویٰ
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور “مارکۂ حق” کے دوران بھارت کے جارحانہ عزائم اور بیانیاتی حکمت عملی بے نقاب ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہر سطح پر ذمہ داری، تحمل اور دفاعی تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
جنوبی ایشیا کو مزید بحرانوں سے بچانے کی ضرورت
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی متعدد سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں جنگی زبان اور اشتعال انگیز بیانات پورے خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو پاکستان کے وجود اور خطے میں اس کے کردار کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے تصادم کے بجائے تعاون، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی کی پالیسی اپنانا ہوگی۔
پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے سنگین نتائج کی تنبیہ
پاکستانی حلقوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار مگر مضبوط ریاست ہے جو اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کی کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ باہمی احترام، سفارتی سنجیدگی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل ہے، جبکہ دھمکی آمیز زبان اور جنگی بیانات خطے کے ڈیڑھ ارب سے زائد عوام کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔



