
‘اسٹار وار‘ حقیقت بن رہی ہے……سید عاطف ندیم
یہ ممالک صرف امریکہ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ چین، ترکی، اسرائیل اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں
کبھی سائنس فکشن فلموں میں دکھائے جانے والے لیزر ہتھیار اب حقیقی دنیا کی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چند برس قبل تک یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ مستقبل کی جنگوں میں بارود، میزائل اور روایتی توپ خانے کے ساتھ ساتھ روشنی کی شعاعیں بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گی، مگر آج مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے اس تصور کو حقیقت کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ ایران جنگ، ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور خطے میں طاقت کے توازن کی نئی کشمکش نے خلیجی ریاستوں کو دفاعی حکمت عملی پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی، یمن جنگ، بحیرۂ احمر میں حملے، شام اور عراق کی غیر مستحکم صورتحال اور خطے میں پراکسی تنازعات نے خلیجی ممالک کے لیے سیکیورٹی خدشات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور عمان جیسے ممالک اب صرف روایتی فضائی دفاعی نظاموں پر انحصار کو ناکافی سمجھ رہے ہیں۔ ان ممالک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ جدید جنگوں میں سستے مگر مؤثر ڈرون اربوں ڈالر کے روایتی دفاعی نظاموں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آج جنگی حکمتِ عملی میں سب سے بڑا انقلاب ڈرون ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہے۔ چند ہزار ڈالر مالیت کے ڈرون نہ صرف حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں بلکہ وہ تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں جیسے اہم اقتصادی مراکز کو بھی مفلوج کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہونے والے حملے نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ مستقبل کی جنگوں میں خطرہ صرف بڑے میزائل نہیں بلکہ چھوٹے، تیز رفتار اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرون بھی ہوں گے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں لیزر ہتھیاروں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ لیزر ٹیکنالوجی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ہتھیار روایتی میزائل دفاعی نظاموں کے مقابلے میں زیادہ کم خرچ، تیز رفتار اور طویل المدتی حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ایک ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کا میزائل استعمال کرنا پڑے تو یہ دفاعی لحاظ سے پائیدار حکمتِ عملی نہیں رہتی۔ اس کے برعکس لیزر ہتھیاروں کے مینوفیکچررز دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک لیزر فائر کی لاگت صرف چند ڈالر تک محدود رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب لیزر ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں چینی ساختہ لیزر نظام کی موجودگی اور اسرائیلی ’’آئرن بیم‘‘ جیسے سسٹمز کی تعیناتی اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے کے ممالک اب روایتی جنگی تصورات سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ سعودی عرب چینی ’’سائلنٹ ہنٹر‘‘ جیسے نظاموں کی آزمائش کر رہا ہے جبکہ قطر بھی ترکی کے ’’اسٹیل ڈوم‘‘ فضائی دفاعی نظام کے اجزاء حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ عمان کی جانب سے چینی لیزر ہتھیاروں کی خریداری کی اطلاعات بھی اس رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ممالک صرف امریکہ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ چین، ترکی، اسرائیل اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی جیو پولیٹیکل حقیقت کارفرما ہے۔ خلیجی ریاستوں کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ امریکہ پر مکمل انحصار ہمیشہ محفوظ حکمتِ عملی نہیں ہو سکتا۔ واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات، اسلحے کی فراہمی میں تاخیر اور عالمی سیاست میں طاقت کے بدلتے توازن نے خلیجی ممالک کو اپنے دفاعی ذرائع متنوع بنانے پر مجبور کیا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا لیزر ہتھیار واقعی جنگ کا مستقبل ہیں؟ اس سوال کا جواب نہ مکمل طور پر ہاں میں ہے اور نہ ہی نفی میں۔ حقیقت یہ ہے کہ لیزر ٹیکنالوجی نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ترقی ضرور کی ہے لیکن اس میں اب بھی کئی تکنیکی اور عملی خامیاں موجود ہیں۔
سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لیزر شعاع کو ہدف پر مسلسل مرکوز رکھنا پڑتا ہے تاکہ وہ ڈرون یا میزائل کو نقصان پہنچا سکے۔ اگر ہدف بہت تیز رفتار ہو یا ایک ہی وقت میں متعدد ڈرون حملہ آور ہوں تو لیزر نظام کی مؤثریت کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موسم بھی لیزر ہتھیاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دھند، نمی، گرد، ریت، بارش یا شدید گرمی لیزر شعاع کو کمزور یا منتشر کر سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جیسے صحرائی ماحول میں یہ مسائل اور بھی زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے چینی لیزر نظاموں کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والی شکایات اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں لیزر سسٹمز کے حساس پرزوں کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کا ’’آئرن بیم‘‘ نظام بھی ابھی مکمل طور پر فعال اور بڑے پیمانے پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اس نے محدود سطح پر کچھ ڈرون مار گرائے ہیں لیکن اسے مکمل دفاعی نظام بننے کے لیے مزید بیٹریوں، انفراسٹرکچر اور مالی وسائل کی ضرورت ہے۔
اس تمام صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لیزر ہتھیار فی الحال روایتی فضائی دفاعی نظاموں کا متبادل نہیں بلکہ ان کے معاون نظام کے طور پر استعمال ہوں گے۔ مستقبل کی جنگیں ’’ملٹی لیئرڈ ڈیفنس‘‘ یعنی کثیر الجہتی دفاعی نظاموں کے تحت لڑی جائیں گی، جہاں میزائل، ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور لیزر ہتھیار ایک ساتھ کام کریں گے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئی عسکری اور ٹیکنالوجیکل دوڑ میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر، ڈرونز اور براہِ راست توانائی والے ہتھیار اب عالمی طاقتوں کی ترجیحات بن چکے ہیں۔ جو ملک ان ٹیکنالوجیز میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی میں بھی سبقت حاصل کرے گا۔
ایران جنگ نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ مستقبل کے خطرات صرف روایتی فوجی حملوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ کم قیمت مگر مہلک ڈرون حملے بھی ان کی سلامتی، معیشت اور توانائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ لیزر ہتھیاروں کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اگرچہ لیزر ہتھیار ابھی مکمل ’’جادوئی حل‘‘ نہیں بن سکے لیکن ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر، زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو سکتی ہے۔ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ کے آسمانوں پر روایتی میزائلوں کے ساتھ ساتھ خاموش مگر انتہائی مہلک لیزر شعاعیں بھی جنگ کا رخ متعین کرتی نظر آئیں۔


