کالمزپیر مشتاق رضوی

پولیو سے پاک پاکستان ،ھمارا عزم ۔۔!! پیر مشتاق رضوی

2025ء کی تیسری انسداد پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 58 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا پاکستان میں پولیو ویکسین مہم کے 30 سال مکمل ہو چکے ہیں

پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے، بچوں کو زندگی کی معذوری سے محفوظ رکھتے ہیں پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے، بچوں کو زندگی کی معذوری سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ پولیو ایک بہت ہی خطرناک اورموذی مرض ہےجو کہ ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وائرس انسان کے دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان کے اعضاء مفلوج ہو سکتے ہیں۔ پولیو کا موذی مرض خاص طور پر بچوں میں زیادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بچوں کی صحت اور زندگی کو بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اور بچوں کو زندگی بھر کا معذور بنا دیتا ہے اس لیے پولیو کے مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن بہت ضروری ہے دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں، اور بہت سے ممالک پولیو فری ہو چکے ہیں۔ 1988ء میں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا، اور اس وقت سے پولیو کے کیسز میں 99 فیصد کمی آئی ہے۔پاکستان، نائجیریا اور افغانستان جیسے چند ممالک میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور بین الاقوامی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پولیو ویکسین کے ذریعے بچوں کو پولیو سے بچایا جا رہا ہے، اور پولیو کے کیسز میں کمی آ رہی ہے پاکستان میں پولیو کے مرض کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بہت محنت کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی پولیو کے مرض کے کچھ واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو پولیو کے مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کروانی چاہیے اور اس مرض کے بارے میں آگاہی پھیلانی چاہیے۔پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم 1988ء سے جاری ہے، جب عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی آئی ہے، لیکن اب بھی یہ مرض موجود ہے۔پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم کے لیے حکومت اور بین الاقوامی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پولیو ویکسین کے ذریعے بچوں کو پولیو سے بچایا جا رہا ہے، اور پولیو کے کیسز میں کمی آ رہی ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم 1988ء سے جاری ہے، اور اب تک کئی مہمات چلائی جا چکی ہیں۔ 2025ء کی تیسری انسداد پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 58 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا پاکستان میں پولیو ویکسین مہم کے 30 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور اس دوران تقریباً ہر سال ہی انسداد پولیو کی ویکسین کی مہم چلائی جاتی ہے 2025ء میں پہلی ملک گیر پولیو مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوچکی ہے، جس میں 99 فیصد اہداف حاصل کیے گئے اور 45 ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے جنوبی پنجاب میں پولیو مہم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں کہ مہم مکمل کر لی گئی ہے اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ ویکسین پلانے کا ہدف حاصل کیا گیا ہے۔ 31 مئی 2025ء کو جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں انسداد پولیو قومی مہم مکمل کی گئی 2026ء میں رواں سال کی قومی پولیو مہم کا آغاز کیا گیا، جس میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جبکہ ضلع راجن پور میں رواں ماہ 581520 پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی
جنوبی پنجاب میں انسداد پولیو مہم کے دوران 31 ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں 28837 موبائل ٹیمیں، 1527 فکسڈ ٹیمیں اور 1010 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد پولیو ورکرز اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اس کے حوالے سے ضلع راجن پور میں 3977 اہلکار کام کریں گے اور حالیہ دنوں میں یونین کونسل لیول پر سوشل موبلائزیشن سماجی تحریک کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ٹیم ٹرینڈنگز ہو رہی ہیں جس میں 3580 فرنٹ لائن ورکرز کی ٹریننگ کروائی جا رہی ہے
ضلع بھر میں پانچ لاکھ کی 81 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ٹرگٹ ہے اور یو سی ایم اوز 49 ہیں جو کہ یو سی کی سطح پر کام کا جایزہ لیں گےاس کے علاوہ شراکتی ادارے یونیسیف کی جانب سے ضلع میں سوشل موبلائزیشن کی سرگرمیاں کروائی جا رہی ہیں تاکہ لوگوں میں اس انے والی کیمپین کے حوالے سے حساسیات کو مزید اجاگر کیا جائے، اس حوالے سے مذہبی رہنماوں، سماجی تنظیموں، اور با اثر افراد کی جانب سے لو پرفارمنگ یو سیز کو فوکس کیا جا رہا ہے جن میں دریایی یو سیز پر زیادہ فوکس ہے یہ امر خوش آئند ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں سے راجن پور پولیو سے پاک ضلع ہے اس دوران ضلع بھر میں کہیں بھی پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہوا ہے لیکن ضلع راجن پور کو مستقل طور پر ھمیشہ کے لیے پولیو سے پاک رکھنے کے لئے ضلع پھر کے پانچ سال سے کم عمرکے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم جاری وساری ہے والدین کے لیے پیغام ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے، بچوں کو زندگی کی معذوری سے محفوظ رکھتے ہیں اس حوالے سے گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین ڈپٹی کمشنر عمران حسین رانجھا نےرانجھا کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے حتمی انتظامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ راجن پور میں پولیو مہم کے دوران ضلع بھر میں 581520 پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔ٹارگٹ کو سو فیصد مکمل کیا جائے۔ کوئی بچہ انسداد پولیو مہم کی ویکسین پینے سے محروم نہ رہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد عمران نصیر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد شعیب الرحمن، چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم راشد نذر شیروانی،یونیسیف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے نمائندہ ڈاکٹر گل بدین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پولیو مہم کے دوران ضلع بھر میں 581520 پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔ٹارگٹ کو سو فیصد مکمل کیا جائے۔ کوئی بچہ انسداد پولیو مہم کی ویکسین پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ترائی بارڈر ایریا، ٹرائیبل ایریا، کچہ اور داخلی و خارجی راستوں کو مکمل طور پر فوکس کیا جائے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ والدین کو چاہئے کہ وہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ محکمہ صحت کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران 3977 ٹیمیں کام کریں گی۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی انسداد پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ کوئی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع راجن پور کے داخلی و خارجی راستوں کو مکمل طور پر فوکس کیا جائے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں دلجمعی سے کام کریں۔ اگر کہیں پر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں لایا جائے #

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button