اسرائیل غزہ میں’نسل کشی‘ سے بچاؤ یقینی بنائے، اقوام متحدہ
اسرائیل کا یہ موقف بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنا دفاع کرتا رہا ہے اور اس کی جنگ ''غزہ کے عوام سے نہیں بلکہ حماس سے ہے۔‘‘
(اے ایف پی کے ساتھ)
واضح رہے کہ اسرائیل اپنے خلاف نسل کشی کے کسی بھی الزام کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے بین الاقوامی قانون کا احترام کیا ہے اور غزہ کی سرحد کے پار سے حماس کے حملے کے بعد اپنا دفاع اس کا حق ہے۔ تاہم اس تازہ رپورٹ پر اسرائیل نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسرائیل کا یہ موقف بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنا دفاع کرتا رہا ہے اور اس کی جنگ ”غزہ کے عوام سے نہیں بلکہ حماس سے ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سن 2024 میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے جاری کردہ حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، جس میں”غزہ پٹی میں نسل کشی کے اقدامات‘‘ کو روکنے کے لیے تدابیر اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ”فوری طور پر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی فوج نسل کشی کے اقدامات میں ملوث نہ ہو اور نسل کشی پر اکسانے کی ہر کوشش کو روکنے اور سزا دینے کے لیے تمام ممکنہ قانونی اقدامات کیے جائیں۔‘‘
یہ رپورٹ 7 اکتوبر سن 2023 سے مئی 2025ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی۔
اس رپورٹ میں فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے ابتدائی حملے اور اس کے بعد کی جانے والی ”سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کی بھی مذمت کی گئی، جن میں بعض اقدامات ”جنگی جرائم‘‘ کے مترادف قرار دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے حملے میں اسرائیل میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
پیر کو جاری کردہ اس رپورٹ میں فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو بھی اجاگر کیا گیا۔ کئی یرغمالیوں نے بتایا کہ انہیں مہینوں تک ”غیر انسانی حالات‘‘ میں رکھا گیا، جہاں انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا، ”غزہ میں ہلاک ہونے والے بیشتر یرغمالی خفیہ قید کے دوران مارے گئے، یا تو اپنے اغوا کاروں کے ہاتھوں یا پھر ان کے اردگرد جاری تنازعات کے اثرات کے باعث۔‘‘

’اجتماعی سزا‘
تاہم زیادہ تر توجہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات پر مرکوز رہی، جہاں اسرائیل کی جوابی فوجی کارروائی میں 72 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیر انتظام اس علاقے کی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ قابل اعتماد تصور کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں ”بظاہر غیر قانونی‘‘ دکھائی دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں۔
اس رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسرائیل نے ”شہری یا محفوظ مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں صحت اور طبی سہولیات بھی شامل ہیں، جبکہ صحافیوں، شہری دفاع کے کارکنوں، طبی عملے، امدادی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں سمیت شہریوں پر بار بار حملے کیے گئے۔‘‘
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا، ”مغربی کنارے میں غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت کے استعمال کے نتیجے میں سینکڑوں غیر قانونی ہلاکتیں ہوئیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، ”غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں اسرائیلی فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کی کارروائیاں کیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں مجموعی طور پر ایک ایسے طرز عمل کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کا مقصد ”فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینا‘‘ اور ”مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بڑے حصوں میں جبری بے دخلی اور نسلی تطہیر‘‘ ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے زور دیا ہے کہ رپورٹ میں درج تمام خلاف ورزیوں کے لیے ”قابل اعتماد اور غیر جانبدار عدالتی اداروں کے ذریعے مناسب احتساب‘‘ نہایت ضروری ہے۔
اسرائیل ماضی میں کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کرتا رہا ہے اور اس کی عسکری کارروائیوں کا ہدف صرف حماس کے عسکریت پسند ہیں، تاہم حماس کے جنگجو دراصل شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔



