سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ معیاری انتظامی نظام، شفاف کوالٹی مینجمنٹ اور مضبوط احتسابی طریقہ کار کسی بھی ادارے کی دیانتداری، مؤثر کارکردگی اور عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدلیہ میں جدید انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ انصاف کی فراہمی کا نظام مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ اسلام آباد میں پیپرا رولز اور کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز سے متعلق منعقدہ تربیتی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے، جس میں عدالتی افسران، انتظامی حکام، ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
عدلیہ پر عوامی اعتماد بڑھانا اولین ترجیح
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدلیہ پر عوامی اعتماد کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی و انتظامی امور کو عالمی معیار کے مطابق چلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر سروس ڈیلیوری، شفاف مالیاتی نظام، قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد اور جدید انتظامی طریقہ کار عدالتی نظام کی ساکھ کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام صرف فیصلوں ہی نہیں بلکہ عدالتی اداروں کی مجموعی کارکردگی، شفافیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا اصلاحاتی ایجنڈا
چیف جسٹس نے بتایا کہ Supreme Court of Pakistan کا اصلاحاتی ایجنڈا انتظامی اور عدالتی امور کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ایجنڈے کے تحت شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن، جدید انتظامی نظام، مؤثر مانیٹرنگ اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق عدلیہ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف مقدمات کے انتظام میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بروقت اور بہتر سہولیات بھی فراہم کی جا سکیں گی۔
کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز کی اہمیت پر زور
انہوں نے کہا کہ کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے کام کے معیار، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ موثر مالیاتی نظم و نسق اور پیپرا قواعد پر مکمل عملداری عوامی وسائل کے درست استعمال اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔
ان کے مطابق مضبوط انتظامی ڈھانچہ نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
ماہرین کے کردار کو سراہا گیا
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے تربیتی اجلاس میں شریک ماہرین، منتظمین اور متعلقہ اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تربیت عدالتی نظام کی استعداد کار بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کے ذریعے عدالتی افسران اور انتظامی عملے کو بہتر انداز میں ذمہ داریاں ادا کرنے میں مدد ملے گی۔
ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ تک توسیع کی ہدایت
چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے تربیتی پروگرام صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں ملک بھر کی ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ تک بھی توسیع دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں یکساں معیار قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سطحوں پر جدید انتظامی اور مالیاتی تربیت فراہم کی جائے۔
ان کے مطابق ضلعی سطح پر عدالتی نظام کو مضبوط بنانا انصاف کی فوری اور مؤثر فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کی ضرورت
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتظامی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور شفاف مالیاتی نظام ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز، مؤثر نگرانی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے عدالتی اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے انتظامی شفافیت، احتساب اور جدید اصلاحات پر دیا جانے والا زور عدلیہ میں ادارہ جاتی بہتری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



