(ڈی پی اے، روئٹرز)
ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو حکمران جماعت اگلا عام انتخاب ہار جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کیئر اسٹارمر میری زندگی کے سب سے مضبوط اور ثابت قدم انسان ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”میں نے کل ان سے دو مرتبہ بات کی۔ ان کے کردار میں مضبوطی ہے، ان کے پاس جدوجہد کا تجربہ ہے۔ کسی قسم کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہو گا۔ اصل بات حکومت کے کام کو جاری رکھنا ہے۔‘‘
لیمی نے کہا کہ مقامی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد کے دس دنوں میں لیبر پارٹی نے ”نمایاں خود ساختہ غلطی‘‘ کی، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کے استعفے کے مطالبات میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا، ”اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرنا بند کیا جائے، میدان میں اترا جائے، آپس میں گیند پاس کی جائے، صحیح سمت میں کھیلا جائے اور برطانوی عوام کی جانب سے کچھ گول اسکور کیے جائیں۔‘‘

یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت؟
لیمی، جو وزیر انصاف بھی ہیں، نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا وہ برطانیہ کے دوبارہ یورپی یونین میں شامل ہونے کے حامی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب اسٹارمر کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے کی دوڑ میں شامل سیاسی حریفوں کے درمیان بریگزٹ کو واپس لینے کے سوال پر نئی بحث چھڑی۔
برطانیہ اور برسلز کے مستقبل کے تعلقات سے متعلق سوالات کا سامنا کرتے ہوئے لیمی نے اصرار کیا کہ وہ کابینہ کی مشترکہ ذمہ داری کے پابند ہیں اور حکومت بریگزٹ سے متعلق اپنی ”ریڈ لائنز‘‘ پر مکمل طور پر قائم ہے۔
ویس اسٹریٹنگ، جنہوں نے گزشتہ ہفتے وزارتِ صحت سے استعفیٰ دیا تھا، نے اشارہ دیا کہ وہ برطانیہ کو دوبارہ یورپی یونین میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اگر لیبر پارٹی میں قیادت کا انتخاب ہوا تو وہ اس میں حصہ لیں گے۔
وزیر ثقافت لیسا نینڈی نے اپنے سابق کابینہ ساتھی اسٹریٹنگ کو اسٹارمر کی جانشینی کی مہم میں یورپ کو مرکزی نکتہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ”عجیب‘‘ قرار دیا۔
نینڈی نے کہا، ”اگر یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا ہی حل ہے، تو دراصل ہم لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ سن 2015 میں زندگی ٹھیک تھی، ہمیں صرف وہیں واپس جانا ہے۔‘‘

اسٹارمر کیا سوچ رہے ہیں؟
اطلاعات کے مطابق اسٹارمر نے ہفتے کا اختتام اپنے چیکرز کنٹری اسٹیٹ میں گزارا، جہاں وہ مبینہ طور پر نجی سطح پر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ اپنی قیادت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں گے، حالانکہ وہ عوامی طور پر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ان کا سامنا کریں گے۔
نینڈی نے اتوار کی صبح میڈیا سے گفتگو کے دوران حکومتی مؤقف سے کسی حد تک مختلف اشارہ دیا، جس کے مطابق اسٹارمر اپنے مخالفین کے خلاف قیادت کی دوڑ میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے بی بی سی سے کہا، ”یہ ان کے لیے ایک بہت ذاتی فیصلہ ہے۔‘‘
بعد ازاں انہوں نے مزید کہا، ”میں وزیر اعظم کو نظرانداز نہیں کروں گی، لیکن صرف یہ کہوں گی کہ یہ ایک نہایت ذاتی فیصلہ ہے۔‘‘
پیر کے روز ڈیوڈ لیمی نے بھی واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا کہ وزیر اعظم کسی بھی قیادت کے مقابلے میں حصہ لیں گے، تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسٹارمر ”واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘
انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو میں کہا، ”انہوں نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ برطانوی عوام کی جانب سے، حکومت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے، جدوجہد جاری رکھیں گے اور انہیں میری مکمل حمایت حاصل ہے۔‘‘



