اہم خبریںانٹرٹینمینٹ

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ: ملزم کو سزائے موت ، سوشل میڈیا پر متحرک خواتین کی سکیورٹی پر نئے سوالات

ثنا یوسف کیس میں سنایا گیا فیصلہ مستقبل میں ایسے جرائم کے خلاف ایک اہم عدالتی مثال بن سکتا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: ثنا یوسف قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی جہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے مرکزی ملزم عمر حیات کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی، جبکہ مجموعی طور پر 30 سال قیدِ بامشقت اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا بھی عائد کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک ہائی پروفائل قتل کیس کا عدالتی انجام ہے بلکہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر متحرک خواتین کو درپیش خطرات، ہراسانی اور تشدد کے بڑھتے رجحان پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے منگل کے روز محفوظ کیا گیا فیصلہ کھلی عدالت میں سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف قتل، گھر میں داخل ہو کر جرم کرنے اور ڈکیتی سمیت مختلف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم عمر حیات کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ عدالت نے گھر میں گھس کر جرم کرنے کی دفعہ 449 کے تحت 10 سال قیدِ بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، جبکہ ڈکیتی کی دفعہ 392 کے تحت مزید 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے مسروقہ سامان رکھنے کی دفعہ 411 کے تحت بھی ملزم کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا۔ اس طرح مجموعی طور پر ملزم کو سزائے موت، 30 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ برس 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں پیش آیا تھا جہاں چترال سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ان کے گھر کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ ثنا یوسف اپنے والدین کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم تھیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر کافی مقبول سمجھی جاتی تھیں۔
واقعے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی جس میں مبینہ ملزم کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ اگلے ہی روز پولیس نے ملزم عمر حیات کو فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا ثنا یوسف کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کبھی ان سے رابطہ کرنے یا ملاقات کی کوشش کی۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ اسے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ بھی سوشل میڈیا پر جانا پہچانا نام تھا۔
ملزم نے عدالت میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا پر ثنا یوسف کے فالوورز کی جانب سے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا جس کے باعث اسے کیس میں ملوث کیا گیا۔ اس دوران اس نے پولیس کی جانب سے جعلی کرایہ نامہ تیار کرنے کا الزام بھی لگایا۔
تاہم کیس کا اہم ترین پہلو ڈیجیٹل اور موبائل فارنزک شواہد ثابت ہوئے۔ دورانِ سماعت استغاثہ نے مقتولہ اور ملزم کے درمیان مبینہ رابطوں کا ریکارڈ، کال ڈیٹا اور چیٹ اسکرین شاٹس عدالت میں پیش کیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مقتولہ کے موبائل فون سے “کاکا” کے نام سے محفوظ ایک نمبر سامنے آیا جسے فارنزک تجزیے کے بعد ملزم عمر حیات کا نمبر قرار دیا گیا۔
سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے ملزم سے استفسار کیا کہ اگر اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا تو پھر اس کا نمبر مقتولہ کے موبائل میں کیوں موجود تھا۔ اس سوال پر ملزم کوئی واضح جواب نہ دے سکا اور اس نے کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔
کیس کی آخری سماعت کے دوران عدالت میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو “لبرل سوسائٹی” یا این جی اوز کے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کو خواتین کے حقوق یا سماجی مباحثے کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اس پر جج افضل مجوکہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالتیں صرف قانون، شواہد اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ کسی سماجی دباؤ یا نظریاتی رجحان کے تحت۔ جج نے وکیل کو ہدایت کی کہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت میں ویڈیوز اور ٹک ٹاک بنانے کی کوشش پر بھی جج نے سخت برہمی ظاہر کی اور حکم دیا کہ عدالتی کارروائی کو سوشل میڈیا مواد میں تبدیل نہ کیا جائے۔
ثنا یوسف قتل کیس نے پورے ملک میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر متحرک خواتین کی سکیورٹی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر سرگرم خواتین کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، کردار کشی اور بعض اوقات جان لیوا حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ثنا یوسف کا قتل ایک اکیلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے جس میں خواتین کو سوشل میڈیا پر موجودگی، خودمختاری یا شہرت کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں متعدد خواتین ٹک ٹاکرز قتل، تشدد اور غیرت کے نام پر جرائم کا شکار ہو چکی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی امریکی نژاد پاکستانی ٹک ٹاکر حرا انور کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا سرگرمیوں پر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ جہلم میں انسا ساجد نامی نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس سے قبل گجرات میں 14 سالہ صبا افضال کی ہلاکت نے بھی ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا کیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ثنا یوسف کیس میں سنایا گیا فیصلہ مستقبل میں ایسے جرائم کے خلاف ایک اہم عدالتی مثال بن سکتا ہے، تاہم خواتین کے تحفظ کے لیے صرف سزائیں کافی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں، آن لائن ہراسانی، نفسیاتی تشدد اور خواتین کے خلاف بڑھتی عدم برداشت کے رجحان پر بھی سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button