پاکستانتازہ ترین

آئینی انصاف، گورننس اور عدالتی خودمختاری پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اہم مشاورتی ملاقات

بنگلہ دیشی اعلیٰ سطحی وفد کی فیڈرل آئینی عدالت آمد، چیف جسٹس سے ملاقات میں آئینی انصاف، ادارہ جاتی تعاون اور عدالتی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: بنگلہ دیش سے آئے ہوئے سینئر سول سرونٹس پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے فیڈرل آئینی عدالت پاکستان کا دورہ کیا جہاں وفد نے معزز چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں آئینی انصاف، عدالتی اصلاحات، ادارہ جاتی تعاون، گورننس اور پاکستان و بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بنگلہ دیشی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی کر رہے تھے جبکہ ان کے ہمراہ سول سروسز اکیڈمی کے سینئر فیکلٹی اراکین اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ ملاقات میں عدالت عظمیٰ کے معزز ججز جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شریک ہوئے جبکہ عدالت کے رجسٹرار نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیشی وفد اس وقت پاکستان میں “ایگزیکٹو لیڈرشپ ڈویلپمنٹ ٹریننگ پروگرام” کے تحت موجود ہے، جس کا مقصد گورننس، آئینی انتظامیہ، عوامی خدمت، قیادت اور ادارہ جاتی استعداد کار کے مختلف پہلوؤں کا عملی مطالعہ کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت وفد مختلف سرکاری اداروں، تربیتی مراکز اور اہم قومی اداروں کا دورہ کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے انتظامی، عدالتی اور آئینی نظام سے متعلق عملی آگاہی حاصل کی جا سکے۔ ملاقات کے آغاز میں بنگلہ دیشی وفد کے اراکین نے چیف جسٹس اور دیگر معزز ججز کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے وفد کو پاکستان کے آئینی عدالتی نظام اور حالیہ اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی۔ وفد نے فیڈرل آئینی عدالت پاکستان کے قیام کو ایک اہم آئینی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط آئینی ادارے جمہوریت کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اجلاس کے دوران آئینی ارتقاء، عدالتی خودمختاری، ادارہ جاتی ترقی، انصاف کی فراہمی اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے تفصیلی اور بامعنی گفتگو ہوئی۔ دونوں اطراف نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط اور مؤثر ادارے کسی بھی جمہوری ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں اور ان کی فعالیت عوام کے اعتماد اور قومی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ گفتگو میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تعلقات، مشترکہ ثقافتی ورثے، عوامی روابط اور خطے میں تعاون کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط، تجربات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر وفد کو ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران فیڈرل آئینی عدالت پاکستان کی کارکردگی، اہم آئینی پیش رفت، اصلاحاتی اقدامات اور ادارہ جاتی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ فلم میں عدالت کے اس عزم کو نمایاں کیا گیا کہ وہ مؤثر آئینی حکمرانی، شفاف عدالتی نظام اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد تیز رفتار، مؤثر اور معیاری آئینی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو اور آئین کی بالادستی مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت مکمل پیشہ ورانہ مہارت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کے ساتھ زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے اور بروقت فیصلوں کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں عدالتی اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ چکی ہیں اور عوام کو فوری، شفاف اور غیرجانبدار انصاف فراہم کرنا ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برادر ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور تجربات کا تبادلہ گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس اور معزز ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی وفد کو پاکستان کے عدالتی اور آئینی نظام کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے عدالت کے انتظامی ڈھانچے، آئینی اصولوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انصاف کی فراہمی کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تبادلہ پروگرام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس نوعیت کے ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ روابط نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے سرکاری اداروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گورننس، عدالتی اصلاحات اور عوامی خدمت کے شعبوں میں تعاون جنوبی ایشیا میں بہتر انتظامی نظام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اجلاس کا اختتام باہمی خیرسگالی، نیک تمناؤں اور مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون، علمی روابط اور پیشہ ورانہ اشتراک کو مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button