پاکستانتازہ ترین

روس اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹیجک استحکام پر اہم مشاورتی اجلاس، عالمی سلامتی اور تخفیفِ اسلحہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال

فریقین نے ہتھیاروں کے کنٹرول، تخفیفِ اسلحہ اور عدم پھیلاؤ سے متعلق مختلف بین الاقوامی معاہدوں اور سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
روس اور پاکستان کے درمیان تزویراتی استحکام، عالمی سلامتی اور تخفیفِ اسلحہ سے متعلق امور پر اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے روس۔پاکستان مشاورتی گروپ کا 16واں اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے بین الاقوامی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، ہتھیاروں کے کنٹرول، عدم پھیلاؤ اور عالمی استحکام کے اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت روسی وزارت خارجہ کے نائب وزیر سرگئی ریابکوف اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طاہر حسین اندرابی نے کی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی اور علاقائی سلامتی کے پیچیدہ حالات میں باہمی مشاورت، سفارتی رابطے اور اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان نہایت اعتماد، سنجیدگی اور تفصیلی انداز میں تبادلہ خیال ہوا جس میں عالمی استحکام کو درپیش چیلنجز، تیزی سے بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بڑے طاقتور ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
فریقین نے ہتھیاروں کے کنٹرول، تخفیفِ اسلحہ اور عدم پھیلاؤ سے متعلق مختلف بین الاقوامی معاہدوں اور سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عالمی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کثیرالجہتی سفارتکاری، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مذاکراتی عمل کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں اسٹریٹیجک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات، ایٹمی عدم پھیلاؤ، عسکری توازن اور علاقائی استحکام کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔
اجلاس میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ متعدد اہم عالمی امور پر روس اور پاکستان کے مؤقف میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر تعاون جاری رکھنے اور عالمی سلامتی سے متعلق معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق روس اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ دفاع، توانائی، انسداد دہشت گردی، علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان روابط مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتا ہوا سفارتی رابطہ خطے میں نئی جغرافیائی صف بندیوں اور عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹیجک استحکام پر مستقل مشاورتی عمل دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، ایشیا میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ آرائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس نوعیت کے سفارتی رابطے عالمی استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے تحت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ روس بھی جنوبی ایشیا میں اپنے سفارتی اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں کا تسلسل خطے میں سفارتی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس۔پاکستان مشاورتی گروپ کا 17واں اجلاس آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا، جہاں تزویراتی استحکام، عالمی سلامتی اور دوطرفہ تعاون سے متعلق امور پر مشاورت کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button