پاکستاناہم خبریں

امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز، عبوری معاہدے کی امید پیدا ہوگئی

ایرانی حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضے متاثر نہ ہوں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی اور ممکنہ سفارتی معاہدے کی کوششیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے تہران کو ایک نئے عبوری معاہدے کا مسودہ پہنچایا ہے، جس پر ایرانی قیادت غور کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ کے خاتمے کی امید پیدا کردی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایک ایسے ابتدائی معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس عبوری معاہدے کو مستقبل میں ایک جامع سمجھوتے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا اہم سفارتی کردار

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس تمام عمل میں کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد مسلسل واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلے کم کرنے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان کچھ معاملات پر لچک پیدا ہوئی ہے۔ اسی سلسلے میں حالیہ دنوں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی، جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اگر موجودہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھے تو پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی تہران کا اہم دورہ کر سکتے ہیں۔ یہ دورہ ممکنہ طور پر جنگ بندی کے بعد خطے میں سیکیورٹی تعاون، اعتماد سازی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کا امریکی تجاویز پر غور

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو امریکی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور متعلقہ ادارے ان کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران فوری طور پر کسی حتمی فیصلے سے گریز کر رہا ہے اور تمام نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ معاملات جو ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق ہیں۔

ایرانی حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضے متاثر نہ ہوں۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ، مگر مذاکرات کے لیے مہلت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران امن معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکہ مزید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

تاہم امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کے جواب کا انتظار کرنے پر آمادہ ہے تاکہ “درست اور تعمیری جواب” سامنے آسکے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک جانب دباؤ کی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

ممکنہ عبوری معاہدے کی اہم شقیں

باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ عبوری معاہدہ یا “اعلامیہ اصول” کئی اہم نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق:

  • فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔
  • ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات آئندہ 30 روز میں جاری رہیں گے۔
  • اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم چین منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
  • محدود مدت کے لیے ایران میں یورینیم افزودگی معطل کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
  • امریکہ ممکنہ طور پر کچھ اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان نکات پر پیش رفت ہوئی تو خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

چین بھی سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے

ادھر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کے روز چین کے اہم دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جو آئندہ منگل تک جاری رہے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس دورے میں خطے کی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

چین پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ماضی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بحال کرانے میں بھی اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیجنگ مستقبل میں امریکہ ایران مذاکرات میں بھی ایک اہم ضامن یا سہولت کار کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

خطے کی صورتحال پر عالمی نظریں

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل منڈیوں، بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

عالمی سفارتی حلقے اس وقت پاکستان، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کی کوششوں کو اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آنے والے چند دن اس سفارتی عمل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ ایران کے جواب اور امریکہ کے اگلے اقدامات سے یہ طے ہوگا کہ خطہ جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا ایک نئی سفارتی مفاہمت کی طرف۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button