سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف کا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی ”ایسنا” نے نقل کی۔
محسن نقوی اور عراقچی کی ملاقات
ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے گزشتہ روز تہران کے دوسرے دورے اور ایرانی اعلیٰ حکام، خصوصاً وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے مؤقف قریب لائے جا سکیں اور 28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی و جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج کہا کہ ایران کو امریکی مؤقف موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی فریم ورک کے 14 نکات کی بنیاد پر رابطوں کے کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔تاہم اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت اور ممکنہ معاہدے کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
ایرانی حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم ایران سے باہر منتقل کرنے یا یورینیم افزودگی کا حق مکمل طور پر چھوڑنے پر آمادہ نہیں، جبکہ امریکہ پہلے اسی مطالبے پر قائم تھا۔
البتہ بعض باخبر ذرائع کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی نوعیت کا ”اعلامیۂ نیت” طے پا سکتا ہے، جس کے بعد آئندہ 30 روز کے دوران جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔



