سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کوئٹہ میں اتوار کی صبح ایک ہولناک دہشت گرد حملے میں مسافر ٹرین کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، ایک بوگی الٹ گئی جبکہ قریبی رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صبح تقریباً آٹھ بجے اس وقت پیش آیا جب جعفر ایکسپریس سے منسلک ہونے والی شٹل ٹرین کوئٹہ کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن سے شہر کی جانب رواں دواں تھی۔ ٹرین جیسے ہی چمن پھاٹک کے قریب پہنچی تو زوردار دھماکہ ہوا جس سے انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں۔
خواتین اور بچے بھی جاں بحق افراد میں شامل
محکمہ صحت اور پولیس حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ تمام لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہیں جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ، ایف سی ہسپتال، بی ایم سی اور نیو ٹراما سینٹر شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کے بعد شدید فائرنگ، علاقے میں خوف و ہراس
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی گھروں اور پلازوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ سڑک کنارے کھڑی 20 سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ الٹنے والی بوگی میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے کرینیں طلب کر لی گئی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
ریلوے حکام کی ابتدائی رپورٹ
ریلوے کنٹرول روم کے مطابق متاثرہ ٹرین ایک شٹل سروس تھی جو کوئٹہ ریلوے سٹیشن اور کوئٹہ کینٹ کے درمیان چلتی ہے۔ اس کی بوگیاں بعد ازاں جعفر ایکسپریس کے ساتھ منسلک کی جاتی ہیں، جو سکھر، ملتان، لاہور اور پشاور کے لیے روانہ ہوتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے مقام پر ایک بڑا گڑھا پڑ گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ دھماکے میں بھاری مقدار میں بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت بھی جاری کی۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے دھماکے کو بزدلانہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دشمن عناصر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریلوے آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا ردعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر انسانیت کے دشمن ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
بلوچستان میں ٹرینوں پر حملوں کی تاریخ
بلوچستان میں ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات پر حملوں کے واقعات ماضی میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ اپریل 2025 میں جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے دوران مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے صورتحال پر قابو پایا تھا۔ اس واقعے میں تقریباً 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن بم دھماکہ میں ریلوے سٹیشن پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
تازہ حملے نے ایک بار پھر بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور عوامی مقامات خصوصاً ریلوے نظام کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ شہریوں میں شدید خوف و تشویش پائی جا رہی ہے۔

