آبنائے ہرمز کی بندش: افغان تجارت اور امداد بہت مشکل دور میں
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سینکڑوں بحری جہاز اور ان کا ہزاروں کا عملہ پھنس چکے ہیں
اے پی کے ساتھ
افغان تجارت اور امداد شدید بحران کا شکار کیوں؟
خشکی سے گھری ہوئی ہندوکش کی ریاست افغانستان نے جب گزشتہ سال کے آخر میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی بندشوں کا سامنا کیا، تو اس نے متبادل کے طور پر ایران کا رخ کیا۔ کراچی کی اہم بندرگاہ کے بجائے برآمدی سامان ایران کی بندرگاہ بندر عباس کے ذریعے بھیجا جانے لگا، تاہم یہ راستہ بھی زیادہ دیر کھلا نہ رہ سکا۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سینکڑوں بحری جہاز اور ان کا ہزاروں کا عملہ پھنس چکے ہیں، جس سے ترسیل کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب ہزاروں کنٹینرز اب بھی پاکستان میں رکے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں افغان کاروباری ادارے اور امدادی تنظیمیں شدید نقصانات سے دوچار ہیں، کیونکہ دونوں بڑے تجارتی راستوں کی بندش نے ملکی معیشت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے نظام کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
غذائی بحران کا شکار بچے اور خواتین
افغان کاروباری افراد اور امدادی تنظیموں کے لیے تو دونوں بڑے تجارتی راستوں کا بند ہونا تباہ کن ثابت ہوا ہی ہے، تاہم غذائی قلت کا شکار خواتین اور بچوں کو اب امدادی مراکز سے خالی ہاتھ لوٹایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا ورلڈ فوڈ پروگرام، جو افغانستان میں غذائی قلت سے متاثرہ ماؤں اور بچوں کو زندگی بچانے والے سپلیمنٹس اور اسکولوں کے بچوں کو توانائی بخش بسکٹ فراہم کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ اس کا زیادہ تر غذائی سامان پاکستان سے حاصل کیا جاتا تھا۔ اکتوبر میں سرحد بند ہونے کے بعد سپلائی کو دبئی اور ایران کے ذریعے سمندری راستے سے منتقل کیا جانے لگا، مگر اب یہ راستہ بھی مؤثر طور پر بند ہو چکا ہے کیونکہ تہران آبنائے پر کنٹرول رکھتا ہے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
افغانستان میں ڈبلیو ایف پی کے ملکی ڈائریکٹر جان ایلیف کے مطابق، ”ایسے وقت میں جب غذائی قلت پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، کمزور اور بے بس ماؤں اور بچوں کو ہیلتھ کلینکس سے واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس انہیں دینے کے لیے خوراک نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران سے پہلے ہی اس تنظیم کو امداد میں کمی کا سامنا تھا، اور اس سال اسے اپنی سالانہ فنڈنگ کا صرف آٹھ فیصد ہی مل سکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”فنڈنگ کے بحران کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش نے بھی ڈبلیو ایف پی کی کارروائیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سپلائی راستے بند ہو چکے ہیں، اخراجات بڑھ گئے ہیں اور منڈیاں بدترین دباؤ کا شکار ہیں، وہ بھی اس انتہائی نازک وقت پر۔‘‘

تین ماہ سے سڑکوں پر رواں امدادی سامان اور تاجروں کی جدوجہد
اب امدادی سامان کو سمندر کے بجائے وسطی ایشیا کے دشوار گزار زمینی راستوں سے بھیجا جا رہا ہے، جو کسی بھی بندرگاہ سے بہت دور ہیں۔ جان ایلیف کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام کے سپلائی اخراجات تین گنا بڑھ چکے ہیں، جبکہ غذائی قلت کا شکار ماؤں اور بچوں کے لیے سپلیمنٹس پر لاگت میں 35 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اس تنظیم کی انرجی بسکٹس کی ایک بڑی کھیپ متحدہ عرب امارات میں پھنس کر رہ گئی۔ اسے دبئی سے ایران کے ذریعے افغانستان پہنچانے کے بجائے اب ایک طویل اور پیچیدہ راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جو سعودی عرب، اردن، شام، ترکی، جارجیا، آذربائیجان اور بحیرہ کیسپیئن کے راستے ترکمانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔
دوسری جانبافغان کاروباری افراد بھی اپنے پھنسے ہوئے سامان کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کابل میں ایک چھوٹی کمپنی چلانے والے لطف اللہ اکبری، جو چین سے تعمیراتی سامان درآمد کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے جہاز نہ گزرنے کے باعث ان کی سپلائی رکی ہوئی ہے جبکہ لاجسٹک اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”میرے پاس اب کاروبار جاری رکھنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔‘‘ اگر سمندری راستہ جلد نہ کھلا تو وہ اپنا سامان چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

اکبری کہتے ہیں، ”ایران اور امریکہ کی جنگ نے میرے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔‘‘ دیگر تاجروں نے وسطی ایشیائی راستے اپنائے ہیں، مگر وہ بہت زیادہ طویل اور مہنگے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”لاجسٹک کمپنیاں اب ہمارے سامان کی قیمت اور ہماری سرمایہ کاری سے بھی زیادہ رقم مانگ رہی ہیں، جو ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہاں تک کہ اگر میں سامان لے بھی آؤں تو مجھے اسے نقصان پر ہی بیچنا پڑے گا۔ میں دوہرا نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘
افغان حکومت کا موقف
افغانستان کی وزارت تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی قیمتوں میں اضافہ محدود رہا ہے اور تقریباً تین فیصد کے قریب بنتا ہے۔ انہوں نے اس کا سبب ایران کے ساتھ جاری تجارت اور وسطی ایشیا، روس اور چین سے درآمدات کو قرار دیا۔
تاہم ان کے مطابق اصل مسئلہ ایران کے راستے آنے والے درآمدی سامان اور کنٹینرز پر عائد پابندیاں ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں مشکل ان پابندیوں کی وجہ سے پیش آئی جو دیگر ممالک سے آنے والے سامان پر لگیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا تاکہ یہ ملک معمول کے مطابق اپنی برآمدات دوبارہ شروع کر سکے۔



