بین الاقوامیاہم خبریں

ابراہیم معاہدوں کی توسیع پر امریکی دباؤ، مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی کشمکش، رپورٹ

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی دکھانے کی خواہاں ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کی مؤثریت کو نمایاں کیا جا سکے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں ابراہیم معاہدوں کی توسیع کے حوالے سے ایک نئی سفارتی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں سابق اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس تجزیہ کار ڈینی سٹرینووٹز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو “زمینی حقائق سے دور” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران عرب ممالک پر دباؤ مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق وائٹ ہاؤس اس وقت ابراہیم معاہدوں کو اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات یا کسی نئے معاہدے کے امکانات غیر واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی خلیجی ممالک کو شامل کرنے کی خواہش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ کابینہ اجلاس میں واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی ابراہیم معاہدوں کا حصہ بنیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائیں۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ممالک امریکہ کے “مقروض” ہیں اور انہیں خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ امریکی صدر کے اس بیان نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، غزہ، لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی دکھانے کی خواہاں ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کی مؤثریت کو نمایاں کیا جا سکے۔

ابراہیم معاہدوں کا پس منظر

ابراہیم معاہدے 2020 میں امریکی سرپرستی میں کیے گئے وہ تاریخی سفارتی معاہدے تھے جن کے تحت بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔

ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے، بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل میں شامل ہوئے۔

امریکہ کی طویل عرصے سے یہ خواہش رہی ہے کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے، کیونکہ ریاض کو عالمِ اسلام اور عرب دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سعودی عرب اس عمل کا حصہ بنتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی تاریخ میں ایک بڑا موڑ تصور کیا جائے گا۔

“تقریباً کوئی امکانات نہیں”

سابق اسرائیلی انٹیلیجنس تجزیہ کار ڈینی سٹرینووٹز نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سعودی عرب، قطر یا دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے کے امکانات “تقریباً نہ ہونے کے برابر” ہیں۔

ان کے مطابق خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی نے عرب عوام میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی عرب حکومت کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کھلے عام وسعت دینا سیاسی طور پر آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دباؤ کے باعث سعودی عرب اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد میں مزید کمی آ رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاض اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خودمختار مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی محتاط حکمت عملی

سعودی عرب نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات معمول پر لانا مشکل ہوگا۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت ایک نہایت محتاط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی مسئلے پر عرب اور اسلامی دنیا کے جذبات کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتی۔

ریاض اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی بڑے سفارتی اقدام کا داخلی اور علاقائی سطح پر گہرا سیاسی اثر پڑ سکتا ہے۔

قطر اور متحدہ عرب امارات کا کردار

Qatar خطے میں ثالثی اور سفارتی رابطوں کے اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ قطر نے مختلف علاقائی تنازعات میں مذاکراتی کردار ادا کیا ہے اور فلسطینی مسئلے پر نسبتاً متوازن مؤقف اختیار کیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکا ہے، تاہم غزہ جنگ اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد ابوظہبی بھی محتاط سفارتی زبان استعمال کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عرب حکومتیں اس وقت داخلی عوامی دباؤ، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران عنصر اور امریکی حکمت عملی

ڈینی سٹرینووٹز کے مطابق اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی واضح معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے تو واشنگٹن اپنی توجہ دوبارہ عرب اسرائیل تعلقات کی طرف موڑ سکتا ہے تاکہ اسے خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس تاثر کو قائم رکھنا چاہتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا اثر و رسوخ برقرار ہے، تاہم زمینی حقائق اس بیانیے سے مختلف نظر آتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، خلیجی سلامتی کے خدشات اور فلسطینی مسئلہ خطے کی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ہر سفارتی اقدام کے وسیع علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

غزہ کی صورتحال، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ، لبنان میں غیر یقینی حالات اور خلیجی ممالک کی نئی خارجہ پالیسیوں نے خطے کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔

ڈینی سٹرینووٹز نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے زمینی حقائق اور عوامی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف سیاسی کامیابی کے حصول پر توجہ مرکوز رکھی تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

واشنگٹن کی پالیسی پر اہم سوالات

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دے رہی ہے کہ آیا امریکہ واقعی مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی حقیقتوں کو مکمل طور پر سمجھ رہا ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق صرف سفارتی دباؤ یا سیاسی اعلانات کے ذریعے خطے کے دیرینہ تنازعات حل نہیں کیے جا سکتے، بلکہ اس کے لیے علاقائی حساسیت، عوامی جذبات اور سیاسی توازن کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکہ، ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے تعلقات خطے کی مجموعی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button