پاکستاناہم خبریں

فتنہ الہندوستان سے مبینہ وابستگی رکھنے والی شہناز سے اہلخانہ کی لاتعلقی، خاندان کا دہشت گردی اور تشدد سے مکمل بیزاری کا اظہار

پریس کانفرنس میں شریک شہناز کے ماموں اور دیگر رشتہ داروں نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خاندان کا اس کے کسی قول و فعل یا مبینہ تنظیمی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
تربت: بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان سے مبینہ طور پر وابستہ خاتون شہناز کے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں نے اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا اس کی کسی بھی سرگرمی، نظریے یا مبینہ تنظیمی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تربت پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران شہناز کی والدہ رخسانہ، دادا، ماموں اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاندان گزشتہ کئی برسوں سے شہناز سے کسی قسم کے رابطے میں نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل تھیں۔
اس موقع پر شہناز کی والدہ رخسانہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کم عمری میں عمان منتقل ہو گئی تھی اور گزشتہ تقریباً بارہ برس سے خاندان کا اس سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب شہناز صرف نو ماہ کی تھیں تو ان کے والد انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد خاندان نے محدود وسائل میں اس کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے بھرپور کوشش کی۔
رخسانہ نے کہا کہ خاندان کو کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ شہناز مستقبل میں کسی ایسی سرگرمی سے منسلک ہو سکتی ہے جس کا تعلق تشدد، شدت پسندی یا کسی کالعدم تنظیم سے جوڑا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارا خاندان ہمیشہ امن، برداشت اور قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور ہم ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں شریک شہناز کے ماموں اور دیگر رشتہ داروں نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خاندان کا اس کے کسی قول و فعل یا مبینہ تنظیمی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص ذاتی طور پر کسی ایسے راستے کا انتخاب کرتا ہے جو قانون اور ریاستی اصولوں کے خلاف ہو تو اس کی ذمہ داری پورے خاندان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا خاندان ایک محب وطن اور پرامن پاکستانی خاندان ہے جو ہمیشہ ملکی آئین، قانون اور ریاستی اداروں کا احترام کرتا آیا ہے۔ ہم اپنے علاقے میں امن، تعلیم اور ترقی کے فروغ کے حامی ہیں اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا تخریبی کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔
خاندان کے افراد نے اس موقع پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کو شہناز کی مبینہ سرگرمیوں سے جوڑنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان کا اس سے برسوں سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کے فیصلوں یا اقدامات کے ذمہ دار ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام اور قبائلی و خاندانی نظام سے وابستہ افراد کی بڑی اکثریت تشدد اور دہشت گردی کی سیاست کو مسترد کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق دہشت گرد تنظیموں میں شامل افراد کے اہلخانہ کی جانب سے لاتعلقی کے اعلانات اس بات کا اظہار ہیں کہ معاشرہ مجموعی طور پر انتہا پسندی کے نظریات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مقامی سماجی رہنماؤں کے مطابق بلوچستان کے عوام امن، استحکام، تعلیم، روزگار اور ترقی کے خواہاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں اور اپنے علاقوں کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور تشدد نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی کے عمل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر خاندان کے افراد نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر قسم کی انتہا پسندی، دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے لاتعلقی رکھتے ہیں اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ریاستی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button