امریکی ایوان نمائندگان میں یوکرین کی امداد اور روس پر نئی پابندیوں کا بل منظور
اگر سینیٹ بھی اس بل کی منظوری دے دیتی ہے تو توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں
اے ایف پی کے ساتھ
امریکی ایوان نمائندگان نے جمعرات کو ایک بل منظور کر لیا جس کے تحت یوکرین کو مالی معاونت فراہم کرنے اور روسی معیشت پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، اس اقدام سے فوری طور پر یوکرین کو کوئی بڑا عملی فائدہ ملنے کا امکان نہیں۔
یوکرین سپورٹ ایکٹ کے تحت جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد اور 8 ارب ڈالر تک کے براہ راست قرضے فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بل میں روسی مالیاتی اداروں، تیل کمپنیوں اور حکومتی عہدیداروں پر نئی پابندیاں اور برآمدی کنٹرول بھی شامل ہیں۔
اس بل کی منظوری کو اس بات کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ بعض ریپبلکن ارکان اپنی جماعت کی پالیسی سے ہٹ کر صدر ٹرمپ کے مؤقف کی مخالفت کرنے پر آمادہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میں صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ایک قرارداد بھی منظور کی تھی، جسے بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
اب یہ بل امریکی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔ اگر سینیٹ بھی اس بل کی منظوری دے دیتی ہے تو توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں، جس کے باعث اسے زیادہ تر ایک علامتی اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
روس کی جانب سے چار سال قبل یوکرین پر حملے کے آغاز کے وقت دونوں بڑی امریکی جماعتوں کے سیاست دان یوکرین کی حمایت میں یکساں طور پر سرگرم تھے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران ان کے بعض اتحادیوں کا مؤقف کییف کے حوالے سے نسبتاً سرد مہری کا شکار ہوا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں امریکہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی امداد میں نمایاں سست روی دیکھی گئی ہے۔



